Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

پی ٹی آئی لانگ مارچ: سیاسی کشیدگی کا معیشت پر اثر اور شیری رحمان کا دوٹوک مؤقف

وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو احتجاجی سیاست ترک کرنا ہوگی۔ سیاسی محاذ آرائی سے معاشی بحالی کے عمل کو شدید دھچکا لگ رہا ہے۔

پی ٹی آئی لانگ مارچ: سیاسی کشیدگی کا معیشت پر اثر اور شیری رحمان کا دوٹوک مؤقف

اہم ترین حقائق و پس منظر اسلام آباد میں سیاسی گہमागहमी اور کشیدہ صورتحال کے تناظر میں وفاقی وزیر شیری رحمان کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو اپنا لانگ مارچ محض ملتوی یا معطل کرنے کے بجائے اسے ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا۔ ملکی تاریخ میں دھرنے اور احتجاجی مارچز ہمیشہ سے سیاسی اور معاشی بحرانوں کا پیش خیمہ رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں جب ملک پہلے ہی مہنگائی، بیرونی قرضوں اور معاشی جمود کا شکار ہے، اس قسم کی سیاسی سرگرمیاں ریاست کے لیے شدید خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دروازے بند ہونے کی وجہ سے کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے اثرات براہ راست عام آدمی اور ملکی سلامتی پر پڑ رہے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات سیاسی غیر یقینی صورتحال کا براہ راست اثر پاکستان کی معیشت، تجارت اور صنعتی پیداوار پر پڑ رہا ہے۔ کاروباری طبقے اور بالخصوص ریٹیلرز کے مطابق، دارالحکومت میں دھرنوں اور دباؤ کی سیاست کی وجہ سے سپلائی چین متاثر ہوتی ہے، جس سے مارکیٹ میں اشیائے خورونضر اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار اس قسم کے ماحول میں سرمایہ کاری سے کتراتے ہیں، جس سے روپے کی قدر پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ معاشی ماہرین متفق ہیں کہ اگر سیاسی عدم استحکام کا یہ سلسلہ جاری رہا تو حکومت کے معاشی اصلاحات کے تمام اہداف دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور عام تاجر کا کاروبار بری طرح تباہ ہو جائے گا۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمران عوامی مینڈیٹ کے بغیر مسلط ہیں اور ان کے خلاف احتجاجی تحریک آئین کے دائرے میں رہ کر جاری رہے گی۔ ادھر حکومتی اتحاد کا اصرار ہے کہ معیشت کو پٹڑی سے اتارنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاجر تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے دونوں فریقین سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ضد کی سیاست چھوڑ کر پارلیمنٹ کے اندر مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں تاکہ ملک کو مزید معاشی تباہی سے بچایا جا سکے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند روز میں ملکی سیاسی منظرنامہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا حکومت اور اپوزیشن کسی قابلِ قبول لائحہ عمل پر متفق ہوتے ہیں یا تصادم کی پالیسی برقرار رہتی ہے۔ اگر پی ٹی آئی اپنے احتجاجی پروگرام پر قائم رہتی ہے تو انتظامیہ کی جانب سے سخت حفاظتی اقدامات اور کریک ڈاؤن کا خدشہ ہے، جس سے سیاسی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ تاہم، معاشی بقا اور ملکی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ہوش سے کام لیں اور ذاتی یا جماعتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر قومی سلامتی اور معاشی ترقی کو مقدم رکھیں۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
پی ٹی آئی لانگ مارچ: سیاسی کشیدگی کا معیشت پر اثر اور شیری رحمان کا دوٹوک مؤقف