تحریک انصاف کے دور میں مساجد سولرائزیشن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف
تحریک انصاف کے دور حکومت میں مساجد کی سولرائزیشن کے اربوں روپے کے منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں اور شفافیت کے فقدان کا انکشاف ہوا ہے جس کی تحقیقات کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت کے دوران خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں مساجد اور عبادت گاہوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔ حالیہ آڈٹ رپورٹ اور سرکاری دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ اس منصوبے کے تحت مختص کیے گئے اربوں روپے کے فنڈز میں سنگین بے ضابطگیاں کی گئیں۔ ابتدائی جانچ پڑتال کے مطابق سولر پینلز، انورٹرز اور بیٹریوں کی خریداری کے عمل میں شفافیت کے قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا اور من پسند کمپنیوں کو مارکیٹ سے کہیں زیادہ نرخوں پر ٹھیکے دیے گئے۔ مزید برآں متعدد مساجد میں منظور شدہ معیار کے برعکس کم معیار کے شمسی آلات نصب کیے گئے جن میں سے ایک بڑی تعداد وقت سے پہلے ہی غیر فعال ہو چکی ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات توانائی کے شعبے کے ماہرین اور کاروباری برادری کے مطابق اس قسم کے سرکاری منصوبوں میں شفافیت کا فقدان نہ صرف قومی خزانے کے زیاں کا باعث بنتا ہے بلکہ سولر توانائی کی مارکیٹ پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ من پسند ٹھیکیداروں کو غیر شفاف طریقے سے نوازے جانے کی وجہ سے شفاف کاروباری کمپنیوں کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ اس کے علاوہ ریٹیلرز اور باضابطہ درآمد کنندگان کو غیر منصفانہ مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔ اقتصادی سطح پر عوام کے ٹیکسوں سے جمع شدہ قیمتی وسائل کا غیر معیاری آلات پر ضیاع معاشی بدانتظامی کی ایک واضح مثال ہے جس سے متبادل توانائی کی ترویج کے مجموعی حکومتی اہداف کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل موجودہ حکومتی حکام نے اس معاملے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی وسائل میں بدعنوانی اور بدانتظامی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب سابق حکمران جماعت کے ترجمان نے ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مساجد سولرائزیشن عوامی فلاح کا ایک تاریخی اقدام تھا جس سے بجلی کے بحران اور بلوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد ملی تھی، اور تمام تر خریداری قوانین کے مطابق کی گئی تھی۔ کاروباری تنظیموں نے شفاف فرانزک آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ اس معاملے کی باقاعدہ اور جامع تحقیقات کے لیے نیب اور متعلقہ انسداد بدعنوانی کے اداروں کو معاملہ بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں خریداری کے تمام معاہدوں کی فرانزک آڈٹ رپورٹ سامنے آنے کے بعد ملوث اہلکاروں اور ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ متبادل توانائی کے تمام سرکاری منصوبوں میں سخت نگرانی، پیپرا قوانین کی پاسداری اور آزاد تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ کے نظام کو لازمی قرار دینا ہوگا تاکہ قومی خزانے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp