Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

بجلی کے ٹیرف میں متوقع اضافے سے صارفین کا تحفظ کیا گیا ہے، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا دعویٰ

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے واضح کیا ہے کہ حکومتی مالی و انتظامی اقدامات کے ذریعے عام صارفین کو بجلی کے بھاری بلوں سے ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔

بجلی کے ٹیرف میں متوقع اضافے سے صارفین کا تحفظ کیا گیا ہے، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا دعویٰ

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس لغاری نے توانائی کے بحران اور ٹیرف پر بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے کثیر الجہتی حکمت عملی اختیار کر کے عام صارفین کو بجلی کے متوقع بھاری بھرکم بلوں سے محفوظ رکھا ہے۔ وزارتِ توانائی کے ذرائع کے مطابق اگر ایندھن کے نرخوں اور مالی خسارے کی مکمل لاگت ٹیرف پر منتقل کر دی جاتی تو عام صارفین کے لیے بجلی کا حصول ناممکن حد تک مہنگا ہو جاتا۔ حکومت نے ترسیلی اور تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی انتظامی کارکردگی بہتر بنانے، لائن لاسز کم کرنے اور سبسڈیز کو ہدف بنانے کے ذریعے ٹیرف میں غیر معمولی اضافے کو روکا ہے۔ اس ضمن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے شدہ شرائط کی پاسداری کرتے ہوئے ترجیحی طبقات کو مالی تحفظ فراہم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات بجلی کے نرخ پاکستان کی معیشت، صنعتی پیداواری لاگت اور برآمدات کے استحکام میں بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ صارفین کو بڑے جھٹکے سے بچایا گیا ہے، تاہم توانائی کی موجودہ قیمتیں بھی ملکی کاروبار اور ریٹیل سیکٹر کے لیے سنگین چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ صنعتی اور تجارتی منڈیوں میں بجلی کے زائد اخراجات کے سبب پیداواری لاگت بلند سطح پر قائم ہے، جس سے مقامی منڈیوں میں افراط زر کے دباؤ میں کمی نہیں آ پا رہی۔ سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز اور دکان داروں کے مالی وسائل کا بڑا حصہ یوٹیلٹی بلز کی نذر ہو رہا ہے، جس نے سرمایہ کاری اور کاروباری نمو کو سست روی کا شکار بنا رکھا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پاور سیکٹر میں ناگزیر اصلاحات لا رہی ہے جن میں آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی اور تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری یا صوبائی تحویل میں دینے کے منصوبے شامل ہیں۔ وزیر توانائی کے مطابق حکومت اصلاحات کے ذریعے دائمی استحکام لانے کے لیے پرعزم ہے۔ دوسری جانب، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور تاجر تنظیمی رہنماؤں کا موقف ہے کہ جب تک بنیادی ٹیرف، فکسڈ چارجز اور بالواسطہ ٹیکسوں میں واضح کٹوتی نہیں کی جاتی، اس وقت تک دعوے علامتی ہی رہیں گے۔ تاجر برادری کا اصرار ہے کہ خطے کے دیگر ممالک سے مسابقت کے لیے بجلی کی قیمتوں کو منطقی سطح پر لانا ناگزیر ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ مہینوں کے دوران پاور سیکٹر کی بحالی کا انحصار حکومت کی جانب سے گردشی قرضوں کے مستقل حل اور بجلی کی چوری کے خلاف جاری مہم کے حتمی نتائج پر ہوگا۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق حکومت کو فوری طور پر ڈسکوز کے مالی و انتظامی خسارے پر قابو پانا ہوگا، ورنہ مالی گنجائش ختم ہونے پر ٹیرف میں ناگزیر اضافہ صارفین پر دوبارہ منتقل ہو سکتا ہے۔ صنعتی بقا اور تجارتی استحکام کے لیے حکومت کو سولر توانائی کے ضوابط اور گرڈ سے بجلی کی کھپت میں توازن قائم کرنا ہوگا تاکہ ملکی نظام دیرپا اور پیداواری معیشت سے ہم آہنگ ہو سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
بجلی کے ٹیرف میں متوقع اضافے سے صارفین کا تحفظ کیا گیا ہے، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا دعویٰ