سیاسی استحکام کے بغیر معاشی بہتری ناممکن، چوہے بلی کے کھیل نے ملکی معیشت کو یرغمال بنا لیا: راجا ناصر عباس
مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ سینیٹر راجا ناصر عباس نے خبردار کیا ہے کہ سیاسی مفاہمت کے بغیر معاشی بحران حل نہیں ہو سکتا۔ چوہے بلی کے کھیل نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر
پاکستان میں جاری شدید سیاسی رسہ کشی اور معاشی بے یقینی کے اس دور میں تمام اہم قومی و سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ نکتہ بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ ملک کو موجودہ دلدل سے نکالنے کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ حالیہ دنوں میں مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ اور سینیٹر راجا ناصر عباس کی جانب سے دیا جانے والا یہ بیان اس تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ جب تک ملک کی سرکردہ سیاسی قیادت ایک میز پر بیٹھ کر قومی مفاہمت کا راستہ اختیار نہیں کرتی، اس وقت تک ملک میں جاری چوہے بلی کا کھیل ختم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ذاتی اور گروہی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات
ملکی معیشت اور تجارت کا براہ راست تعلق سیاسی حالات کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ جب تک سیاسی محاذ آرائی جاری رہے گی، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ تجارتی منڈیوں میں بے یقینی کی لہر دوڑ چکی ہے جس کی وجہ سے کاروباری طبقہ شدید ذہنی کوفت کا شکار ہے۔ روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ، بلند شرح سود اور توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے چھوٹے اور بڑے صنعت کاروں کے لیے پیداواری عمل کو مشکل بنا دیا ہے۔ عام مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور ریٹیلرز کے مطابق خریداروں کی قوت خرید میں ریکارڈ کمی واقع ہو چکی ہے۔ اس معاشی جمود کا سارا بوجھ بالآخر عام آدمی پر پڑ رہا ہے جو مہنگائی کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل
سیاسی تجزیہ کاروں اور تاجر تنظیموں کی اکثریت کا ماننا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین موجود خلیج کو ختم کیے بغیر معاشی اصلاحات کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکتے۔ جہاں ایک طرف حکومتی حلقے اصلاحات اور معاشی اشاریوں میں بہتری کے دعوے کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں اور دینی و سیاسی اکابرین موجودہ نظام کی کارکردگی اور شفافیت پر شدید سوالات اٹھا رہے ہیں۔ کاروباری برادری کے نمائندگان نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ تمام فریقین ذاتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک 'چارٹر آف اکانومی' پر دستخط کریں تاکہ پالیسیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہ سکیں اور کاروبار کا پہیہ بلا تعطل چلتا رہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
آئندہ آنے والے مہینے پاکستان کے معاشی اور سیاسی مستقبل کے تعین میں انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہتی ہے تو ملک کو مزید مالیاتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر سیاسی قیادت نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اپنایا اور باہمی تعاون کی فضا قائم کی تو نہ صرف سیاسی بحران کا خاتمہ ہوگا بلکہ تجارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئے گی۔ کلیدی اداروں اور سیاسی قوتوں کے مابین قومی مفاہمت ہی وہ واحد راستہ ہے جو ملک کو ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کر سکتا ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.