Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات اور خطے کی معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سجن کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں دو طرفہ تجارتی تعلقات، معاشی تعاون اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات اور خطے کی معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال

اہم ترین حقائق و پس منظر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کے درمیان ایک انتہائی اہم اور نتیجہ خیز ملاقات منعقد ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات، تاریخی پس منظر اور باہمی دلچسپی کے امور کا احاطہ کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور مختلف شعبوں بالخصوص تجارت، توانائی اور مواصلات میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے ہمسایہ ممالک کا باقاعدہ اور قریبی رابطہ ناگزیر ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات کا معاشی تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت کی صلاحیت موجودہ حجم سے کہیں زیادہ ہے۔ اس اعلیٰ سطح کی ملاقات کے نتیجے میں تجارتی راہداریوں کو فعال بنانے، بارڈر مارکیٹس کے قیام اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے۔ توانائی کے شعبے بالخصوص گیس پائپ لائن منصوبے اور بجلی کی فراہمی کے امور پر بھی پیش رفت کی توقع ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف سرحدی علاقوں کے تاجروں اور ریٹیلرز کو براہ راست فائدہ پہنچے گا بلکہ دونوں ممالک کی منڈیوں میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جس سے بالآخر عامتہ الناس کو معاشی ریلیف ملے گا۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے برادرانہ اور تاریخی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور تمام شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا خواہاں ہے۔ ایرانی صدر نے بھی پاکستانی ہم منصب کے جذبات کا خیرمقدم کرتے ہوئے دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ تاجر برادری اور معاشی ماہرین نے دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پاک ایران تجارتی راہداریوں کو فعال کرنے اور معاشی تعاون کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان وفود کے تبادلے میں تیزی آنے کا امکان ہے تاکہ اعلیٰ سطح پر طے پانے والے فیصلوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایران اور پاکستان کے مابین بینکنگ چینلز کو بحال کر دیا جائے اور ترجیحی تجارتی معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے تو دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارتی حجم میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف دو طرفہ معیشت کے لیے سودمند ثابت ہوں گے بلکہ پورے خطے میں معاشی استحکام کی نوید بھی ثابت ہوں گے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات اور خطے کی معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال