Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ لندن اسٹاک ایکسچینج، پاکستانی معیشت کے فروغ کے عزم کا اعادہ

وزیراعظم شہباز شریف نے لندن اسٹاک ایکسچینج کا دورہ کرکے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی ہے، جس سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ لندن اسٹاک ایکسچینج، پاکستانی معیشت کے فروغ کے عزم کا اعادہ

اہم ترین حقائق و پس منظر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے دورہ برطانیہ کے دوران لندن اسٹاک ایکسچینج کا خصوصی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ دورے کا بنیادی مقصد پاکستان کی معاشی سمت، حکومتی اصلاحات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کو اجاگر کرنا تھا۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حکومت ملک میں معاشی استحکام لانے کے لیے سخت فیصلے کر رہی ہے جن کے مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ باہمی تجارت کا حجم بڑھایا جا سکے۔

تجارتی و معاشی اثرات لندن اسٹاک ایکسچینج کے دورے کے معاشی اثرات کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے عالمی سطح پر پاکستان کی مالیاتی ساکھ بہتر ہوتی ہے۔ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے سامنے ملکی معیشت کی درست تصویر پیش کرنے سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں اضافے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان شعبوں میں برطانوی اور دیگر بین الاقوامی سرمایہ کاری سے نہ صرف صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے جس سے عام آدمی کو براہ راست ریلیف ملنے کی راہ ہموار ہوگی۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی ترجمانوں اور معاشی ٹیم کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا یہ دورہ پاکستان کی اقتصادی سفارت کاری کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کا واحد حل برآمدات میں اضافہ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ ہے۔ دوسری جانب، کاروباری برادری اور تجارتی تنظیموں نے اس دورے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستان کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کم ہوں گے۔ کاروباری حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس اعلیٰ سطح کے رابطے کے نتیجے میں مستقبل قریب میں پاکستان میں نئے جوائنٹ وینچرز اور تجارتی معاہدے طے پائیں گے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ پیش رفت کے حوالے سے معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس دورے کے فالو اپ کے طور پر برطانوی تجارتی وفود جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ ان رابطوں کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے پالیسی سطح پر مزید آسانیاں پیدا کرے، بالخصوص ٹیکس کے نظام میں بہتری اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ اگر پالیسیاں مستقل رہیں اور سرمایہ کاروں کو سکیورٹی اور سہولت فراہم کی جاتی رہی تو پاکستان آنے والے برسوں میں خطے کا ایک اہم معاشی مرکز بن سکتا ہے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ لندن اسٹاک ایکسچینج، پاکستانی معیشت کے فروغ کے عزم کا اعادہ