خیبر پختونخوا کے انتظامی و معاشی امور کی نگرانی کے لیے وزیر اعظم کی جانب سے 11 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی قائم
وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا میں وفاقی منصوبوں، امن و امان اور انتظامی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے 11 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کا مقصد پالیسیوں کے موثر نفاذ کو ممکن بنانا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر اسلام آباد میں وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کردہ احکامات کے مطابق خیبر پختونخوا سے متعلق خصوصی انتظامی اور مالیاتی امور کی نگرانی کے لیے گیارہ رکنی اعلیٰ اختیاراتی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کی تشکیل کا بنیادی مقصد صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار، وفاقی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور امن و امان کے پس منظر میں پیدا ہونے والی انتظامی رکاوٹوں کا بروقت سدباب کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ کمیٹی صوبائی سطح پر وفاقی اداروں کے اشتراک کار کا جائزہ لے گی اور براہ راست وزیر اعظم کو تفصیلی کارکردگی رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہوگی۔ حالیہ چند ماہ کے دوران مرکز اور صوبے کے مابین پیدا ہونے والی پالیسی جاتی خلیج اور عوامی فلاحی اسکیموں کے تعطل کے پیش نظر اس مانیٹرنگ میکانزم کو ناگزیر قرار دیا جا رہا تھا تاکہ ریاستی مشینری کی فعالیت کو برقرار رکھا جا سکے۔
تجارتی و معاشی اثرات خیبر پختونخوا کی معیشت، جو بڑی حد تک علاقائی تجارت، زراعت اور بین الاقوامی تجارتی راہداریوں بالخصوص طورخم بارڈر کی سرگرمیوں سے جڑی ہے، اس اقدام سے براہ راست متاثر ہونے کا امکان ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق مانیٹرنگ کمیٹی کا قیام تاجر برادری میں اعتماد بحال کرنے اور وفاقی فنڈز سے چلنے والے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو تیز تر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وقت پشاور اور ملحقہ صنعتی زونز میں تاجروں کو مہنگی توانائی، نقل و حمل کے مسائل اور سیکیورٹی سے جڑے اخراجات کا سامنا ہے۔ ایک منظم نگرانی کا نظام قائم ہونے سے صنعتی بستیوں کی بحالی، مقامی ریٹیلرز کے لیے سپلائی چین کے تحفظ اور بین الصوبائی تجارت میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے عملی مواقع پیدا ہوں گے، جس سے صوبے میں مارکیٹ کی مجموعی صورتحال مستحکم ہو سکتی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل وفاقی حکومتی ذرائع کا موقف ہے کہ 11 رکنی کمیٹی کا مقصد کسی کے انتظامی اختیارات کو محدود کرنا نہیں بلکہ وفاقی وسائل کی شفافیت اور صوبائی فلاحی اسکیموں کی جلد تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔ وفاقی ترجمان کے مطابق یہ کمیٹی صوبائی محکموں اور وفاقی وزارتوں کے مابین رابطہ کاری کو بہتر بنائے گی۔ دوسری جانب صوبائی سیاسی حلقوں اور بعض مقامی تنظیموں نے اس اقدام پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ مانیٹرنگ کمیٹی کے کام میں اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبائی خود مختاری کے اصولوں کا مکمل احترام ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے۔ تاجر تنظیموں اور ایوان صنعت و تجارت خیبر پختونخوا نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ کمیٹی کسٹم، بارڈر ٹریڈ اور مقامی کاروباروں کے تصفیہ طلب مالیاتی مسائل کو حل کرنے پر خصوصی توجہ دے گی۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ ہفتوں میں اس کمیٹی کے باضابطہ اجلاسوں کا آغاز متوقع ہے جس کے بعد صوبے میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات کا ازسرنو تعین کیا جائے گا۔ اگر کمیٹی شفاف نگرانی اور معاشی اصلاحات کو یقینی بنانے میں کامیاب رہتی ہے تو اس سے وفاق اور صوبے کے مابین مالیاتی تنازعات میں کمی واقع ہوگی۔ اس کے نتیجے میں پسماندہ اضلاع میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی، بارڈر ٹریڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور نجی سرمایہ کاری کے نئے مواقع جنم لے سکتے ہیں، جو خطے کی طویل المدتی پائیدار معاشی بقا کے لیے کلیدی ثابت ہوں گے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp