وزیراعظم کی زیر صدارت لائیو اسٹاک کے شعبے کو کارپوریٹ خطوط پر استوار کرنے کی تاریخی منظوری
وزیراعظم نے لائیو اسٹاک کے شعبے کو کارپوریٹ خطوط پر استوار کرنے کی منظوری دے دی ہے جس سے ملکی برآمدات اور معیشت کو فروغ ملے گا۔

اہم ترین حقائق و پس منظر
اسلام آباد میں وزیرِ اعظم پاکستان کی زیرِ صدارت لائیو اسٹاک کے شعبے کو جدید اور کارپوریٹ خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے ایک اہم اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران ملک میں مویشی بانی کے شعبے کی موجودہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر اس صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کا لائیو اسٹاک کا شعبہ ملکی زرعی جی ڈی پی میں سب سے بڑا حصہ دار ہے، تاہم خاطر خواہ انفراسٹرکچر، جدید تحقیق اور کارپوریٹ مینجمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس کی حقیقی صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ حکومت کے اس نئے اقدام کا مقصد اس شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا، ویٹرنری سروسز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا اور گوشت و دودھ کی پیداوار میں سائنسی بنیادوں پر اضافہ کرنا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات
اس فیصلے کے معیشت اور تجارت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ لائیو اسٹاک کے کارپوریٹ یزیشن سے منڈی میں شفافیت آئے گی، معیاری خوراک کی فراہمی یقینی ہوگی اور قیمتوں کے تعین میں استحکام پیدا ہوگا۔ ریٹیلرز اور کسانوں کے درمیان مڈل مین کا کردار کم ہوگا جس سے براہ راست کسانوں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ مل سکے گا۔ پاکستان پہلے ہی مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیائی ممالک کو حلال گوشت برآمد کر رہا ہے، لیکن کارپوریٹ طرزِ عمل اپنانے سے برآمدات کے حجم میں کئی گنا اضافہ متوقع ہے۔ اس سے نہ صرف کسانوں کی فی کس آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی تقویت ملے گی، جو کہ موجودہ معاشی صورتحال میں انتہائی خوش آئند ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ملکی برآمدات کو بڑھانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی سمت میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ وزارتِ لائیو اسٹاک اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس پالیسی پر فوری عمل درآمد کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کریں۔ دوسری جانب، تاجر برادری، ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن اور کارپوریٹ سیکرٹریز نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چھوٹے کسانوں کو اس عمل میں شامل کرنے اور انہیں آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے کے لیے خصوصی مراعات دینی چاہئیں تاکہ دیہی سطح پر غربت کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
مستقبل کا منظرنامہ
آئندہ چند مہینوں میں اس پالیسی کے تحت عملی اقدامات کا آغاز متوقع ہے۔ حکومت لائیو اسٹاک کی ویلیو چین کو بہتر بنانے، کولڈ چین لاجسٹکس کو فروغ دینے اور بین الاقوامی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق کوالٹی کنٹرول کے سخت معیارات نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اگر اس منصوبے پر شفافیت اور دیانت داری کے ساتھ عمل درآمد کیا گیا تو یہ شعبہ پاکستان کی معیشت کا سب سے مضبوط ستون بن سکتا ہے، جس سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.