Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی: گورنر فیصل کریم کنڈی کا وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی پالیسیوں پر شدید ردعمل

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور پر تنقید کرتے ہوئے صوبے میں گورننس اور سیاسی تعطل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی: گورنر فیصل کریم کنڈی کا وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی پالیسیوں پر شدید ردعمل

اہم ترین حقائق و پس منظر خیبر پختونخوا میں گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے مابین جاری رسہ کشی ایک نئے اور تلخ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور سے متعلق دوٹوک انداز اپناتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے دوست نہیں بلکہ محض ایک اتفاقی اور دور کی رشتہ داری ہے۔ یہ بیان محض ایک ذاتی تبصرہ نہیں بلکہ صوبے کے دو اہم ترین آئینی عہدوں کے درمیان موجود وسیع تر خلیج کی عکاسی کرتا ہے۔ صوبائی انتخابات کے بعد سے اب تک خیبر پختونخوا کی انتظامی مشینری وفاق اور صوبے کے مابین عدم تعاون کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے ان دونوں رہنماؤں کے درمیان روایتی سیاسی مخالفت اب حکومتی پالیسیوں اور آئینی اختیارات کی کشمکش میں تبدیل ہو چکی ہے، جس سے صوبے کے انتظامی امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات صوبائی قیادت اور وفاقی نمائندے کے مابین اس مسلسل محاذ آرائی نے خیبر پختونخوا کے کاروباری ماحول کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔ تجارتی حلقوں اور مقامی منڈیوں کے نمائندوں کے مطابق جب صوبے کے سربراہانِ حکومت باہمی رابطوں سے محروم ہوں تو سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔ پشاور، مردان اور ڈیرہ اسماعیل خان کی تجارتی تنظیموں نے نشاندہی کی ہے کہ امن و امان کی نازک صورتحال کے ساتھ ساتھ سیاسی محاذ آرائی کے نتیجے میں بیرونی و ملکی سرمایہ کاری منجمد ہو چکی ہے۔ ریٹیل اور ہول سیل مارکیٹوں میں معاشی بے یقینی کی وجہ سے سپلائی چینز اور ترقیاتی فنڈز کے اجرا میں تاخیر ہو رہی ہے۔ بجٹ کے ترقیاتی اہداف کا حصول ناممکن نظر آنے سے مقامی تاجروں اور عام شہریوں کی معاشی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت عوامی فلاح، امن و امان کی بحالی اور معاشی بہتری پر توجہ دینے کے بجائے وفاق سے تصادم کی سیاست پر گامزن ہے، جو صوبے کے مفاد میں کسی طور درست نہیں۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف اور وزیر اعلیٰ کے ترجمانوں کا موقف ہے کہ گورنر ہاؤس آئینی دائرہ کار سے تجاوز کرتے ہوئے منتخب صوبائی حکومت کے کام میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے اور وفاقی حکومت صوبے کے جائز مالی حقوق دبائے ہوئے ہے۔ تاجر برادری اور چیمبرز آف کامرس نے دونوں رہنماؤں سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذاتی و جماعتی مفادات کو صوبے کی معاشی بقا پر ترجیح دینا بند کیا جائے۔

مستقبل کا منظرنامہ خیبر پختونخوا میں آئندہ چند ہفتوں کے دوران سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر وفاق اور صوبے کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے سنجیدہ مذاکرات کا آغاز نہ ہوا تو صوبائی بجٹ کے نفاذ اور سیکیورٹی آپریشنز کے معاشی اثرات سنبھالنا دشوار ہو جائے گا۔ صوبے کی پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ آئینی عہدیداران محاذ آرائی کے بجائے معاشی استحکام، صنعتی بحالی اور عوامی ریلیف پر توجہ مرکوز کریں۔ بصورت دیگر، جاری سیاسی کشیدگی صوبے کے معاشی ڈھانچے کو طویل مدتی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی: گورنر فیصل کریم کنڈی کا وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی پالیسیوں پر شدید ردعمل