پارلیمنٹ کی خاموشی معاشی استحکام اور قانون کی بالادستی کے لیے لمحہ فکریہ ہے، بیرسٹر علی ظفر
سینیٹرز اور اراکین قومی اسمبلی کی گرفتاریوں پر پارلیمنٹ کی خاموشی نے سیاسی و معاشی حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، جس سے کاروباری فضا متاثر ہو رہی ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر
حالیہ دنوں میں پاکستان کی سیاسی و پارلیمنٹ کی تاریخ میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب مختلف جماعتوں کے سینیٹرز اور اراکین قومی اسمبلی (ایم این ایز) کی گرفتاریوں کا سلسلہ تیز ہوا۔ اس صورتحال پر ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں کی مجرمانہ خاموشی نے آئینی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور نامور قانون دان بیرسٹر علی ظفر نے اس حوالے سے کڑے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی نمائندوں کی غیر آئینی انداز میں گرفتاریوں پر پارلیمنٹ کا خاموش رہنا جمہوریت کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
پارلیمنٹ کو ریاست کا وہ مقدس ادارہ مانا جاتا ہے جہاں عوام کے بنیادی حقوق اور آئین کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ تاہم، موجودہ حالات میں قانون ساز اداروں کی جانب سے اس قسم کے اقدامات پر کوئی مؤثر لائحہ عمل سامنے نہ آنا اس بات کا غماز ہے کہ ریاستی ستونوں کے مابین مفاہمت کا فقدان ہے۔ یہ واقعات ایسے وقت میں رونما ہو رہے ہیں جب ملک پہلے ہی گہرے سیاسی انتشار اور ادارہ جاتی تناؤ کا شکار ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات
سیاسی عدم استحکام کا براہ راست اور فوری اثر پاکستان کی معیشت، منڈیوں اور عام آدمی کے روزگار پر پڑتا ہے۔ جب پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت باہم دست و گریباں ہوں یا قانون ساز ادارے اپنے ارکان کے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہوں، تو ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار شدید عدم اعتماد کا شکار ہو جاتے ہیں۔
کلیئر ٹریڈرز کے تجارتی اور معاشی تجزیے کے مطابق، اس سیاسی بے یقینی نے اسٹاک ایکسچینج سے لے کر ریٹیل مارکیٹ تک منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ، تجارتی سرگرمیوں میں سست روی، اور مہنگائی کے دباؤ نے کاروباری طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک معاشی بحالی کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ درآمدات و برآمدات کے شعبے بھی اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ خریدار اور سرمایہ کار طویل مدتی معاہدوں سے گریزاں ہیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل
بیرسٹر علی ظفر اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ پارلیمنٹ کی یہ خاموشی جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ارکانِ پارلیمنٹ کی استثنیٰ اور آئینی آزادی کو سلب کرنا آمریت کی علامت ہے۔ دوسری جانب، حکومتی حلقوں کی طرف سے تاحال اس معاملے پر کوئی واضح اور تسلی بخش لائحہ عمل سامنے نہیں آیا، جس سے فضا مزید کشیدہ ہو چکی ہے۔
تاجر تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ سیاسی انتقام اور کشمکش کو ختم کر کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بیٹھنا ہوگا تاکہ ملک کو مزید معاشی گرت سے بچایا جا سکے۔
مستقبل کا منظرنامہ
آئندہ آنے والے دنوں میں اگر پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت نے اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔ عدلیہ اور دیگر اہم ریاستی اداروں پر دباؤ میں اضافہ ہوگا، جو جمہوریت کے تسلسل کے لیے خطرناک ہے۔ معاشی محاذ پر، اگر سیاسی کشیدگی کم نہ ہوئی تو مہنگائی میں اضافے اور صنعتی پیداوار میں کمی کا نیا طوفان آ سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریقین ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر آئین و قانون کی بالادستی کو تسلیم کریں، تاکہ پارلیمنٹ دوبارہ فعال ہو سکے اور معیشت بحالی کے راستے پر گامزن ہو سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.