سی ڈی اے کا بڑا فیصلہ، شاپنگ مال کو آٹھ کنال اراضی کے عارضی استعمال کی اجازت منسوخ
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اسلام آباد کے ایک بڑے شاپنگ مال کو آٹھ کنال اراضی کے عارضی استعمال کی اجازت منسوخ کر دی ہے جس سے کاروباری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع ایک بڑے تجارتی مرکز یعنی شاپنگ مال کو دی جانے والی آٹھ کنال قیمتی اراضی کے عارضی استعمال کی اجازت کو باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہر میں سرکاری زمینوں کے تجارتی مقاصد کے لیے مبینہ غلط استعمال اور تجاوزات کے خلاف سخت جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔ اس اراضی کا استعمال طویل عرصے سے شاپنگ مال کی پارکنگ اور اضافی تجارتی سرگرمیوں کے لیے کیا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے شہریوں اور ٹریفک کے بہاؤ کو متعدد بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سی ڈی اے کے شعبہ پلاننگ اور اسٹیٹ مینجمنٹ نے تمام متعلقہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد اس اجازت نامے کو فوری طور پر ختم کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات اس اجازت نامے کی منسوخی کے معاشی اور تجارتی شعبے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ شاپنگ مال میں آنے والے صارفین کے لیے پارکنگ کی جگہ میں کمی واقع ہوگی، جس سے نہ صرف خریداروں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ اس مال میں قائم دکانوں اور برانڈز کے تجارتی حجم میں بھی عارضی کمی کا اندیشہ ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، اسلام آباد کی مارکیٹ میں اس طرح کے اقدامات سے سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی اثر پڑتا ہے، خاص طور پر جب پالیسیوں میں اچانک تبدیلی لائی جائے۔ اس فیصلے سے ریٹیلرز کو اپنے کاروباری ماڈل پر نظرثانی کرنا ہوگی کیونکہ پارکنگ کی سہولت کی کمی بالواسطہ طور پر گاہکوں کی آمدورفت کو متاثر کرتی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل سی ڈی اے حکام کا مؤقف ہے کہ زمین کی یہ الاٹمنٹ یا عارضی اجازت نامہ مخصوص شرائط کے تحت دیا گیا تھا جن کی مبینہ طور پر خلاف ورزی کی جا رہی تھی، یا پھر عارضی مدت پوری ہو چکی تھی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ سرکاری املاک کو بلا معاوضہ یا نامناسب مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ دوسری جانب، شاپنگ مال کی انتظامیہ نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے یکطرفہ قرار دیا ہے۔ مال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف ان کا کاروبار متاثر ہوگا بلکہ وہاں روزگار سے وابستہ سیکڑوں افراد کا مستقبل بھی داؤ پر لگ جائے گا۔ تاجر برادری نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں فریقین کے مابین مذاکرات کے ذریعے حل پر زور دیا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند روز میں اس تنازع کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔ اگر شاپنگ مال انتظامیہ نے عدالت سے رجوع کیا تو یہ معاملہ قانونی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ سی ڈی اے اپنی حکمت عملی کے تحت اس اراضی کا قبضہ واپس لینے اور اسے کسی اور سرکاری یا عوامی مقصد کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ دوسری طرف، کاروباری حلقے اس توقع کا اظہار کر رہے ہیں کہ انتظامیہ کوئی متبادل لائحہ عمل طے کرے گی تاکہ تجارتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور قانونی تقاضے بھی پورے کیے جا سکیں۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp