Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

دہشتگردی کے خلاف قومی یکجہتی کے لیے سیاسی انتشار کا خاتمہ ناگزیر ہے، بلاول بھٹو زرداری

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز بالخصوص دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے سیاسی کشمکش اور لانگ مارچ کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔

دہشتگردی کے خلاف قومی یکجہتی کے لیے سیاسی انتشار کا خاتمہ ناگزیر ہے، بلاول بھٹو زرداری

اہم ترین حقائق و پس منظر

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ سیاسی صورتحال پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت اندرونی اور بیرونی محاذ پر سنگین سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے واقعات نے پوری قوم کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع کے لیے برسرپیکار ہیں، سیاسی جماعتوں کی جانب سے جاری احتجاجی مظاہرے اور لانگ مارچ قومی یکجہتی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ سیاسی و جمہوری عمل میں احتجاج کا حق اپنی جگہ تسلیم شدہ ہے، تاہم جب ملکی بقا اور سلامتی کو خطرات لاحق ہوں تو تمام سیاسی قوتوں کو اپنی ترجیحات کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا۔ ماضی کے تجربات گواہ ہیں کہ جب تک سیاسی قیادت ایک صفحے پر نہ ہو، ریاست دشمن عناصر اس خلا کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات

ملک میں جاری طویل سیاسی رسہ کشی، دھرنوں اور لانگ مارچ کے ثقافت نے پاکستانی معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔ کاروباری برادری، سرمایہ کار اور ریٹیلرز اس غیر یقینی صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ جب دارالحکومت یا بڑے شہروں میں دھرنے اور سڑکیں بند ہوتی ہیں تو اس کا براہ راست اثر روزمرہ کی سپلائی چین، تجارتی سرگرمیوں اور مارکیٹوں کے ٹرن اوور پر پڑتا ہے۔ مہنگائی کی چکی میں پسنے والا عام شہری مزید مالی مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔ تجارتی منڈیوں میں سرمایہ کاری کا انخلاء اور روپیہ کی قدر میں اتار چڑھاؤ براہ راست سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ ہے۔ کاروباری حلقوں کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ ملک میں سیاسی سکون لایا جائے تاکہ معاشی پہیہ بلا تعطل چل سکے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل

سیاسی حریفوں کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ حکومتیحلقوں نے اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی بحالی اور امن و امان کے قیام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو تعاون کرنا چاہئے۔ دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں اور احتجاجی دھرنوں کی قیادت کرنے والے رہنماؤں کا اصرار ہے کہ پرامن احتجاج ہر آئینی شہری کا بنیادی حق ہے اور حکومت اس بنیادی حق کو دبانے کے لیے سلامتی کے نعرے کا استعمال کر رہی ہے۔ تاہم، سول سایت اور معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ سیاسی انتقام اور محاذ آرائی سے بالاتر ہو کر قومی سلامتی کے نکتہِ آغاز پر سنجیدہ سوچ بچار کی ضرورت ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

آئندہ آنے والے دنوں میں اگر سیاسی فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ امن و امان کی خراب صورتحال براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر اثر انداز ہوگی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر تمام سیاسی جماعتیں بیٹھیں، دہشتگردی کے ناسور کے خلاف ایک متفقہ قومی لائحہ عمل تیار کریں اور معیشت کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مشترکہ اقتصادی ایجنڈا نافذ کریں۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
دہشتگردی کے خلاف قومی یکجہتی کے لیے سیاسی انتشار کا خاتمہ ناگزیر ہے، بلاول بھٹو زرداری