بھارتی ایئرلائنز کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع
پاکستان نے بھارتی فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے، جس سے بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری پر مالیاتی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے ایک نیا نوٹس ٹو ایئرمین (نوٹم) جاری کرتے ہوئے بھارتی کمرشل پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود پر عائد پابندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ سلامتی کے امور، قومی تحفظ اور دونوں ممالک کے مابین جاری سفارتی اور سیاسی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین بالاکوٹ واقعے اور اس کے بعد کی عسکری و سفارتی پیش رفت کے بعد سے فضائی حدود کے جزوی اور مکمل استعمال پر مسلسل تنازعات جاری رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ ساتھ مختلف پابندیاں نافذ کی جاتی رہی ہیں۔ مجاز حکام کی جانب سے موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے جامع جائزے کے بعد فضائی حدود کی بندش کو آئندہ 30 روز تک برقرار رکھنے کی منظوری دی گئی ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات پاکستانی فضائی حدود کی مسلسل بندش سے بھارتی فضائی کمپنیوں، بالخصوص بین الاقوامی روٹس پر چلنے والی پروازوں کو بھاری مالیاتی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ دہلی، ممبئی اور دیگر شمالی بھارتی شہروں سے خلیجی ممالک، یورپ، برطانیہ اور شمالی امریکا جانے والی پروازوں کو اب بحیرہ عرب، عمان یا دیگر طویل متبادل فضائی راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس غیر معمولی چکر کی وجہ سے نہ صرف پرواز کے دورانیے میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے کا اضافہ ہو چکا ہے بلکہ جیٹ فیول کے اخراجات میں بھی بے تحاشا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق بھارتی فضائی صنعت کو روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کے اضافی مالی بوجھ کا سامنا ہے، جس کے براہ راست اثرات مسافروں کے کرایوں اور کارگو کی ترسیل کے اخراجات پر مرتب ہو رہے ہیں، جبکہ خطے کی بین الاقوامی تجارتی لاجسٹکس بھی متاثر ہو رہی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل پاکستانی دفاعی اور سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ فضائی حدود کا استعمال کسی بھی ملک کی خود مختاری اور قومی سلامتی کا معاملہ ہے، اور بھارت کی جانب سے معاندانہ رویے اور دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کے بعد ایسے اقدامات کا تسلسل ناگزیر تھا۔ ان کے مطابق جب تک نئی دہلی بنیادی نوعیت کے تنازعات اور سیکیورٹی خدشات کو دور نہیں کرتا، فضائی رعایتیں دینا قومی مفاد کے منافی ہوگا۔ دوسری جانب بھارتی ایوی ایشن وزارت اور نجی ایئرلائن آپریٹرز نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ روٹس میں طویل مدتی تبدیلی ان کی آپریٹنگ لاگت اور منافع کے مارجن کو بری طرح نچوڑ رہی ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں ان کا مسابقتی برتری کا عنصر کمزور پڑ رہا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ منظرنامے میں جب تک دونوں پڑوسی ایٹمی طاقتوں کے مابین اعلیٰ سطحی سفارتی مذاکرات اور کشیدگی میں واضح کمی نہیں آتی، فضائی حدود کی بحالی کا امکان انتہائی محدود نظر آتا ہے۔ موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال کے تحت ممکنہ طور پر یہ پابندیاں آئندہ مہینوں میں بھی برقرار رہ سکتی ہیں، جس سے خطے کی مجموعی شہری ہوابازی کی مارکیٹ میں عدم استحکام جاری رہے گا۔ ایوی ایشن مارکیٹ پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل المدتی بنیادوں پر متبادل راستوں کے استعمال سے کارگو اور مسافر ٹریفک دیگر خلیجی اور وسطی ایشیائی ایئرلائنز کی طرف منتقل ہونے کا عمل مزید تیز ہو جائے گا، جو بھارتی ایوی ایشن سیکٹر کے لیے طویل المدتی خسارے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp