آٹھ اکتوبر 2005 کا قیامت خیز ززلزلہ: اکیس برس گزر جانے کے باوجود معاشی و سماجی اثرات کے زخم تازہ
آٹھ اکتوبر 2005 کے ہولناک زلزلے کو اکیس سال بیت گئے ہیں مگر اس سانحے کے معاشی اور سماجی اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر آٹھ اکتوبر 2005 کی وہ صبح تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جب پاکستان کے شمالی علاقوں بالخصوص آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں زمین نے ہولناک انگڑائی لی تھی۔ ریکٹر اسکیل پر سات اعشاریہ چھ شدت کے اس زلزلے نے چند لمحوں میں ہستیوں کو اجاڑ دیا اور ہنستے بستے شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سانحے میں تقریباً اٹھাত্তر ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ زخمی اور بے گھر ہوئے۔ بنیادی ڈھانچے، اسکولوں، اسپتالوں اور سڑکوں کی تباہی نے متاثرہ علاقوں کا ملک کے باقی حصوں سے رابطہ منقطع کر دیا تھا۔ اس المناک واقعے کو اکیس برس بیت چکے ہیں، لیکن متاثرہ علاقوں کے باسیوں کے دلوں پر لگے زخم اور تباہ ہونے والے نظامِ زندگی کی بازآبادکاری کے نقوش آج بھی نمایاں ہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات اس قیامت خیز زلزلے کے معاشی اثرات انتہائی گہرے اور دور رس تھے۔ متاثرہ علاقوں میں زراعت، سیاحت، اور چھوٹے پیمانے کی صنعتیں مکمل طور پر بیٹھ گئی تھیں۔ مقامی منڈیوں میں اشیائے خورونوش اور تعمیراتی سامان کی قلت کے باعث مہیا کردہ قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا، جس سے عام آدمی کی مالی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہو گئی۔ ریٹیلرز اور تاجروں کو اربوں روپے کا براہ راست نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ تجارتی مراکز، دکانیں اور گودام ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔ بینکنگ کا نظام درہم برہم ہونے اور سرمائے کی روانی رک جانے سے معیشت جمود کا شکار ہو گئی تھی۔ اگرچہ حکومت اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے امدادی پیکیجز اور تجارتی بحالی کے لیے رقوم فراہم کی گئیں، تاہم سپلائی چین کی بحالی اور روزگار کے نئے ذرائع پیدا کرنے میں طویل عرصہ لگا۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل سانحے کی برسی کے موقع پر حکومتی عہدیداران، فلاحی تنظیموں اور تاجر برادری کی جانب سے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے اور بحالی کے کاموں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سرکاری نمائندگان کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کا عمل تقریباً مکمل کر لیا گیا ہے اور زلزلہ سے متاثرہ تعلیمی اداروں اور صحت کے مراکز کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ دوسری طرف، تاجر رہنماؤں اور مقامی عمائدین کا مؤقف ہے کہ معاشی بحالی کے دعوے اپنی جگہ، لیکن چھوٹے کاروباری طبقے کو جو نقصان اٹھانا پڑا تھا، اس کا مکمل ازالہ نہیں ہو سکا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مستقبل میں کسی بھی ناگہانی آفت سے نمٹنے کے لیے تاجروں کو آسان اقساط پر قرضے اور کاروباری بیمہ اسکیمیں فراہم کی جائیں تاکہ مقامی معیشت کو استحکام مل سکے۔
مستقبل کا منظرنامہ اکیس سال کا یہ طویل عرصہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ پاکستان جیسے خطے میں جو زلزلے کے لحاظ سے انتہائی حساس زون میں واقع ہے، آفات سے نمٹنے کے پیشگی انتظامات کتنے اہم ہیں۔ ماہرین اقتصادیات اور شہری منصوبہ سازوں کا اصرار ہے کہ تعمیراتی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے تاکہ مستقبل میں جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایک جامع قومی حکمت عملی تیار کرے جس کے تحت نہ صرف ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو کا نظام بہتر ہو بلکہ تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے ایک متبادل ڈیجیٹل اور مالیاتی انفراسٹرکچر بھی موجود ہو۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp