Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

صومالی قزاقوں کے قبضے سے رہائی پانے والے پاکستانی ملاح کی بی بی سی اردو سے خصوصی گفتگو

صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بننے والے جہاز ایم ٹی آنر 25 کے پاکستانی ملاح یاسر خان نے رہائی کے بعد پانچ ماہ طویل قید اور بازیابی کے دردناک و سنسنی خیز تجربات شیئر کیے۔

صومالی قزاقوں کے قبضے سے رہائی پانے والے پاکستانی ملاح کی بی بی سی اردو سے خصوصی گفتگو

اہم ترین حقائق و پس منظر

صومالی قزاقوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے تیل بردار جہاز ’ایم ٹی آنر 25‘ پر تعینات پاکستانی ملاح یاسر خان نے وطن واپس پہنچنے کے بعد بی بی سی اردو سے خصوصی گفتگو میں اس ہولناک واقعے کی پردہ پوشی کرتے ہوئے تمام تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔ یاسر خان کے مطابق، جب قزاقوں نے جہاز پر دھاوا بولا تو عملے کے تمام ارکان خوفزدہ ہو گئے اور ہر ایک کی زبان پر کلمہ جاری تھا کیونکہ سب کو یہی محسوس ہو رہا تھا کہ اب ان کی زندگی کا آخری وقت آ چکا ہے۔ پانچ ماہ تک طویل غیر یقینی صورتحال، قید و بند کی صعوبتوں اور صومالیہ کے ساحلوں پر دہشت کے سائے میں گزرنے والے ایام نے نہ صرف ان کے اہلِ خانہ کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بحری سلامتی کے اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان چھوڑے۔

تجارتی و معاشی اثرات

بین الاقوامی سمندری تجارت کے لیے صومالیہ کے قریب بحیرہ عرب اور بحر ہند کے راستے ہمیشہ سے حساس سمجھے جاتے رہے ہیں۔ اس نوعیت کے واقعات سے نہ صرف جہاز رانی کی صنعت کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ انشورنس کے نرخوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کا بالواسطہ اثر درآمدی و برآمدی اشیاء کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے، جن کی تجارت کا بڑا انحصار سمندری راستوں پر ہے، ایسے بحران تیل کی سپلائی چین کو متاثر کرتے ہیں، جس سے مقامی منڈیوں میں اضطراب پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ تجارتی حلقوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جہاز رانی کمپنیوں کو اپنے عملے کی سکیورٹی کے لیے مزید موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کاروباری سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل

واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پاکستانی وزارتِ خارجہ، میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی اور دیگر متعلقہ اداروں نے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر فوری رابطے بحال کیے۔ یاسر خان اور دیگر عملے کی بازیابی کے لیے سفارتی سطح پر انتہائی خاموشی اور تدبر کے ساتھ کوششیں کی گئیں۔ تاجر برادری اور سمندری امور کے ماہرین نے حکومت کی اس کامیابی کو سراہا ہے تاہم انہوں نے بین الاقوامی بحری گشت کرنے والی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صومالی قزاقوں کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے پٹرولنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کریں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

مستقبل کا منظرنامہ

اس نوعیت کے بحران اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ بحری تجارت سے منسلک تمام ممالک اور ادارے مشترکہ حکمت عملی وضع کریں۔ مستقبل میں جہازوں پر ایڈوانس سکیورٹی سسٹمز کی تنصیب اور ایمرجنسی رسپانس پروٹوکولز کو بہتر بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ یاسر خان کی بحفاظت واپسی اگرچہ ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن یہ واقعہ اس امر کی یاد دہانی بھی ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مزید سخت قوانین اور نگرانی کے نظام کی اشد ضرورت ہے تاکہ پاکستانی سمیت دنیا بھر کے ملاح محفوظ ماحول میں اپنے فرائض سر انجام دے سکیں۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
صومالی قزاقوں کے قبضے سے رہائی پانے والے پاکستانی ملاح کی بی بی سی اردو سے خصوصی گفتگو