Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

اخبار کے کاغذ میں لپٹے سموسے اور پکوڑے کھانا صحت کے لیے سنگین خطرہ

اخبار کے کاغذات میں گرم سموسے اور پکوڑے فروخت کرنے کا عمل انسانی صحت بالخصوص بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔

اخبار کے کاغذ میں لپٹے سموسے اور پکوڑے کھانا صحت کے لیے سنگین خطرہ

اہم ترین حقائق و پس منظر

پاکستان بھر کے بازاروں، گلی محلوں اور شاہراہوں پر گرم گرم سموسے، پکوڑے، جلیبیاں اور دیگر تلی ہوئی اشیا عموماً پرانے اخبارات یا رسائل کے کاغذات میں لپیٹ کر فروخت کی جاتی ہیں۔ عام صارفین اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ یہ روایتی طریقہ کار ان کی صحت کے لیے کتنا خطرناک ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اخبارات کی چھپائی میں استعمال ہونے والی سیاہی (انامک اور پیٹرولیم بیسڈ انکس) میں خطرناک کیمیکلز، سیسہ (लीड)، اور مختلف زہریلے مرکبات پائے جاتے ہیں۔ جب گرم اور چکنی غذائیں ان کاغذات کے ساتھ لگتی ہیں تو یہ کیمیکل باآسانی خوراک میں جذب ہوجاتے ہیں اور انسانی جسم میں داخل ہوکر اعصابی نظام، جگر اور معدے کے امراض کا سبب بنتے ہیں۔ بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے یہ صورتحال بالخصوص زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ ان کا مدافعت کا نظام کمزور ہوتا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات

معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پرانے اخبارات کا استعمال ریٹیلرز اور فوڈ دکانداروں کے لیے ایک سستا ذریعہ ہے کیونکہ یہ انہیں صفر یا انتہائی کم لاگت میں دستیاب ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس، فوڈ گریڈ ریپرز یا صاف کاغذات کا استعمال دکانداروں کے لیے اخراجات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ تاہم، اس معاشی بچت کے نتیجے میں قوم کی صحت پر جو اخراجات کا بوجھ پڑتا ہے وہ کئی گنا زیادہ ہے۔ علاج معالجے کے بڑھتے ہوئے اخراجات، ہسپتالوں میں مریضوں کا رش اور قوتِ کار میں کمی براہ راست ملکی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ اگر ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹیز اس شعبے میں سختی کریں تو دکانداروں کو متبادل اور محفوظ پیکنگن اپنانا ہوگی، جس سے پیکیجنگ انڈسٹری پر بھی مثبت معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل

صحت عامہ کے اداروں اور ماہرینِ خوراک نے اس حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانوں کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے ان پرانے کاغذی مواد پر فوری پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ دوسری جانب، تاجر برادری اور خوانچہ فروشوں کا مؤقف ہے کہ صاف ستھری پیکنگ مہنگی ہونے کی وجہ سے ان کے لیے روزگار کا تسلسل برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے جب تک حکومت کی طرف سے سستے متبادل کی فراہمی یا سبسڈی نہ دی جائے۔ صارفین کی اکثریت اس خطرے سے ناواقف ہے اور آگہی مہمات کی کمی کی وجہ سے یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

آئندہ دنوں میں اگر حکومت اور فوڈ سیفٹی اتھارٹیز نے اس مسئلے کا نوٹس نہ لیا تو صحت عامہ کے مسائل میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی اداروں، میڈیا اور پبلک سروس ایڈورٹائزنگ کے ذریعے عوام میں شعور بیدار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، چھوٹے درجے کے تاجروں کے لیے ماحول دوست اور فوڈ گریڈ پیپر بیگز کی کم نرخوں پر فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ معاشی نقصان کے بغیر صحت کے اس سنگین خطرے کا مستقل تدارک کیا جا سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
اخبار کے کاغذ میں لپٹے سموسے اور پکوڑے کھانا صحت کے لیے سنگین خطرہ