Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں نومولود کی گمشدگی کا معمہ، انتظامیہ اور والدین آمنے سامنے

پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں نومولود کی گمشدگی کے واقعے نے طبی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں جہاں والد اور پولیس کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔

پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں نومولود کی گمشدگی کا معمہ، انتظامیہ اور والدین آمنے سامنے

اہم ترین حقائق و پس منظر

پشاور کے معروف اور بڑے طبی ادارے لیڈی ریڈنگ اسپتال (ایل آر آئی) میں ایک انتہائی پُراسرار اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں نوزائیدہ بچہ اچانک غائب ہو گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اسپتال کے گائنی اور نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں پیش آیا، جس نے نہ صرف نادار اور پریشان حال والدین کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے بلکہ پورے صوبے کے طبی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ روزنامہ جنگ کی رپورٹس کے مطابق، نومولود کے غائب ہونے کے بعد اسپتال کے اندر سکیورٹی کے انتظامات اور عملے کی کارکردگی پر شدید نوعیت کے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس نے موقع پر پہنچ کر تفتیش کا آغاز کر دیا، تاہم معاملے کی پیچیدگی دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات

اگرچہ یہ ایک براہ راست طبی اور سماجی نوعیت کا واقعہ ہے، لیکن اس کے گہرے معاشی اور تجارتی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ پشاور جیسے بڑے تجارتی مرکز میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد متزلزل ہونے کی صورت میں نجی اسپتالوں اور میٹرنٹی ہومز کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کے لوگ، جو پہلے ہی مہنگائی کے طوفان کی وجہ سے نجی علاج کے متحمل نہیں ہو سکتے، ایسے واقعات کے بعد شدید ذہنی اور مالی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سرکاری اسپتالوں میں سکیورٹی کے نام پر اضافی فنڈز کے باوجود ناقص انتظامات قومی وسائل کے ضیاع کی عکاسی کرتے ہیں، جس سے معاشی بدانتظامی کے نقائص بھی اجاگر ہوتے ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل

اس حساس واقعے پر مختلف فریقین کے بیانات نے معاملے کو مزید الجھا دیا ہے۔ متاثرہ نومولود کے والد نے اسپتال کی انتظامیہ اور نرسنگ عملے کو اس غفلت کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ اسپتال کی سکیورٹی کی خامیوں کی وجہ سے ان کا بچہ اغوا یا غائب ہوا ہے۔ دوسری جانب، پولیس حکام نے تحقیقات کے دوران ایک نیا رُخ پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ابتدائی شواہد اور بیانات کی روشنی میں والد کی جانب سے بچے کی گمشدگی کا الزام والدہ پر عائد کیا جا رہا ہے۔ پولیس اور اسپتال انتظامیہ کی جانب سے اس تضاد نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جبکہ کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے فرانزک اور تفتیشی رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

مستقبل کے تناظر میں یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور محکمہ صحت اس واقعے کی اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ جوڈیشل انکوائری کروائیں۔ اگر واقعے میں اسپتال کے عملے کی غفلت یا کسی مجرمانہ غفلت کا عنصر پایا گیا تو ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ، لیڈی ریڈنگ اسپتال سمیت تمام بڑے سرکاری اسپتالوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی مانیٹرنگ کو بہتر بنانا، بائیو میٹرک سکیورٹی سسٹم نافذ کرنا اور مریضوں کے وارڈز میں داخلے کے سخت ضوابط وضع کرنا ہوں گے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک اور شرمناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے اور عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں نومولود کی گمشدگی کا معمہ، انتظامیہ اور والدین آمنے سامنے