Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

محسن نقوی کا دورہ ایران: اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ پر زور

وفاقی وزیر محسن نقوی نے ایران کے دورے کے بعد اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمینی حقائق پروپیگنڈے سے یکسر مختلف ہیں۔ اس دورے سے دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارتی اور معاشی تعلقات میں مزید بہتری کی توقع ہے۔

محسن نقوی کا دورہ ایران: اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ پر زور

اہم ترین حقائق و پس منظر

حالیل دنوں میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلامی جمہوریہ ایران کا اہم دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سکیورٹی، بارڈر مینجمنٹ اور دوطرفہ تجارت کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنا تھا۔ دورے کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے انکشاف کیا کہ جو لوگ ایران نہیں گئے، ان کے ذہنوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ ایک تباہ حال ملک ہے، جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران اور دیگر ایرانی شہروں میں ترقیاتی رفتار اور معاشی سرگرمیاں توقع سے کہیں زیادہ بہتر ہیں، جو کہ مغربی پروپیگنڈے کی نفی کرتی ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات

پاکستان اور ایران کے مابین تجارت کے وسیع تر امکانات موجود ہیں جن سے تاحال مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ حالیہ دورے کے معاشی اثرات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ دونوں ممالک کے مابین سرحدی تجارت کو قانونی شکل دینے اور سمگلنگ کے خاتمے سے باضابطہ محصولات میں اضافہ ہوگا۔ ایرانی تیل، بجلی اور زرعی پیداوار کی پاکستان منڈیوں تک آسان رسائی سے توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ریٹیلرز اور تاجر برادری کے لیے یہ صورتحال انتہائی سازگار ہے کیونکہ بارڈر ٹریڈ سستے خام مال اور اشیائے خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے جس سے براہ راست عام صارفین کو ریلیف ملتا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل

حکومتی سطح پر اس دورے کو انتہائی کامیابی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ تجارتی راہداریوں کو فعال کرنا ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ دوسری جانب، تاجر برادری بالخصوص سرحدی علاقوں کے کاروباری طبقات نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ چینلز کی بحالی اور بارڈر مارکیٹس کا قیام ان کی دیرینہ مانگ تھی، جس سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ تجارتی حجم میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوگا۔

مستقبل کا منظرنامہ

آئندہ پیش رفت کے حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر دونوں حکومتیں طے شدہ معاہدوں پر من و عن عمل درآمد کریں تو دوطرفہ تجارت اربوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ سرحدی سکیورٹی کے امور کو باہمی مشاورت سے حل کر کے تجارتی قافلوں کی نقل و حرکت کو مزید محفوظ بنایا جا رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے متوقع ہیں جو اس شراکت داری کو مزید مستحکم کریں گے اور خطے میں معاشی استحکام کی نئی راہیں کھلیں گی۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
محسن نقوی کا دورہ ایران: اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ پر زور