مظفر گڑھ میں اتائی کی مبینہ غفلت سے آٹھ سالہ بچہ جاں بحق، غیر قانونی کلینکوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
مظفر گڑھ میں نام نہاد اتائی معالج کے مبینہ غلط انجکشن سے آٹھ سالہ کمسن بچہ جاں بحق ہو گیا، جس کے بعد طبی قوانین کے نفاذ اور غیر قانونی کلینکس کے خاتمے کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر مظفر گڑھ کے نواحی علاقے میں ایک بار پھر طبی غفلت اور غیر قانونی پریکٹس نے معصوم جان نگل لی۔ خاندانی ذرائع کے مطابق آٹھ سالہ بچے کو معمولی بخار کی شکایت پر قریبی نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں موجود اتائی نے مبینہ طور پر غیر مستند ادویات اور نامعلوم انجکشن کا استعمال کیا۔ انجکشن لگتے ہی بچے کی طبعیت بگڑ گئی اور وہ ہسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گیا۔ ورثاء کا کہنا ہے کہ مذکورہ معالج کے پاس میڈیکل پریکٹس کا کوئی قانونی اجازت نامہ یا متعلقہ ڈگری موجود نہیں تھی، مگر وہ طویل عرصے سے کھلے عام کلینک چلا رہا تھا۔ واقعے کے فوراً بعد مبینہ ملزم کلینک بند کر کے فرار ہو گیا جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کر کے لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لیا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات دیہی اور نیم شہری علاقوں میں اتائیت کا پھیلاؤ محض صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین معاشی بوجھ بھی ہے۔ کم آمدنی والے طبقے سرکاری ہسپتالوں کی دوری، ادویات کی عدم دستیابی اور نجی ماہرین کی بھاری فیسوں سے بچنے کے لیے سستے علاج کے جال میں پھنس جاتے ہیں، جو بعد ازاں طویل المدتی بیماریوں، معذوری یا ہلاکتوں کی صورت میں خاندانوں کو شدید مالی بحران سے دوچار کرتا ہے۔ غیر مستند ادویات اور جعلی سرنجوں کی غیر قانونی خرید و فروخت سے کالی معیشت کو فروغ ملتا ہے جبکہ باقاعدہ فارماسیوٹیکل اور صحت کے ریگولیٹڈ شعبے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے۔ ایسے سانحات غریب خاندانوں کی پیداواری صلاحیت کو متاثر کر کے معاشی پسماندگی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل متاثرہ خاندان نے اعلیٰ حکام سے فوری انصاف، ملزم کی گرفتاری اور کڑی سزا کی اپیل کی ہے۔ مقامی آبادی اور تاجر تنظیموں نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اور ضلعی انتظامیہ کی خاموشی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اتائیوں کے خلاف وقتاً فوقتاً مہمات چلائی جاتی ہیں لیکن مستقل بنیادوں پر نگرانی نہ ہونے کے باعث یہ کلینک دوبارہ کھل جاتے ہیں۔ دوسری جانب محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں عطائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کیا جا رہا ہے اور اس واقعے میں ملوث فرد کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت کارروائی کی جائے گی۔
مستقبل کا منظرنامہ یہ افسوسناک سانحہ صحت کے بنیادی ڈھانچے میں انقلابی اصلاحات کا متقاضی ہے۔ جب تک دیہی علاقوں میں بنیادی مراکز صحت کو فعال نہیں کیا جاتا اور مستند ڈاکٹروں کی تعیناتی یقینی نہیں بنائی جاتی، تب تک اتائیت کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ غیر قانونی ادویات کی فراہمی روکنے کے لیے فارمیسی سطح پر سخت جانچ پڑتال کرے اور پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو مزید بااختیار بنا کر شفاف مانیٹرنگ سسٹم نافذ کرے۔ بصورت دیگر دیہی آبادی نہ صرف اپنی جمع پونجی سے محروم ہوتی رہے گی بلکہ معصوم جانوں کا زیاں بھی جاری رہے گا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp