Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

مفاہمت اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل ناگزیر ہے، امین الحق کا بیان

ایم کیو ایم کے رہنما سید امین الحق نے کہا ہے کہ تمام سیاسی و انتظامی بحرانوں کا پائیدار حل صرف بامقصد بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

مفاہمت اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل ناگزیر ہے، امین الحق کا بیان

اہم ترین حقائق و پس منظر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر سید امین الحق نے ملکی مجموعی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پارٹی ہمیشہ افہام و تفہیم اور مذاکرات کی حامی رہی ہے۔ ان کے مطابق تصادم اور سیاسی انتشار سے نہ صرف جمہوری عمل پٹڑی سے اترتا ہے بلکہ ملکی بقا اور ریاستی اداروں کے استحکام پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تاریخی تناظر میں سندھ کے شہری مراکز خصوصاً کراچی اور حیدرآباد نے سیاسی کشیدگی کے باعث دہائیوں پر محیط بحرانوں کا سامنا کیا ہے۔ ایم کیو ایم کی قیادت کا یہ اصرار ہے کہ وفاق اور صوبوں کے مابین آئینی اختیارات کی منتقلی اور بلدیاتی اداروں کے مالی و انتظامی اختیارات کے معاملات کو عدالتی جنگ یا سڑکوں پر احتجاج کے بجائے پارلیمان اور گفت و شنید کے فورم پر طے کیا جانا چاہیے۔

تجارتی و معاشی اثرات سیاسی استحکام کا براہِ راست تعلق معاشی ترقی اور مارکیٹ کے اعتماد سے وابستہ ہوتا ہے۔ کراچی جو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ملکی ریونیو کا نصف سے زائد حصہ فراہم کرتا ہے، کسی بھی قسم کی سیاسی محاذ آرائی کا سب سے پہلا شکار بنتا ہے۔ تجارتی ماہرین اور مالیاتی اداروں کے مطابق جب سیاسی قوتیں تصادم کے بجائے بات چیت کی راہ اختیار کرتی ہیں تو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں فوری اضافہ ہوتا ہے۔ پائیدار مفاہمت سے نہ صرف صنعتی علاقوں میں پیداواری تسلسل برقرار رہتا ہے بلکہ سپلائی چین کے تعطل کے خدشات بھی دور ہوتے ہیں، جس کے مثبت اثرات ہول سیل مارکیٹ سے لے کر ریٹیل سطح تک اشیائے ضروریہ کی مستحکم قیمتوں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل ایم کیو ایم کی قیادت کا موقف ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف سمیت تمام ریاستی اسٹیک ہولڈرز کو انا کی قربانی دے کر میثاقِ معیشت اور میثاقِ جمہوریت پر متفق ہونا چاہیے۔ تاجر برادری نے بھی اس بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صنعت کاروں کو غیر یقینی سیاسی فضا کی بجائے پالیسیوں کا تسلسل درکار ہے۔ دوسری جانب وفاقی حلقوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ اتحادی جماعتوں کے مابین مشاورت کے عمل کو وسعت دی جائے گی تاکہ معاشی اصلاحات اور قانون سازی کے عمل کو وسیع تر قومی مفاد میں آگے بڑھایا جا سکے۔

مستقبل کا منظرنامہ آنے والے دنوں میں وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور آئینی ترامیم کے حوالے سے نئے سیاسی اتحاد بننے کے امکانات موجود ہیں۔ اگر تمام بڑی سیاسی جماعتیں بات چیت کی میز پر بیٹھنے کے اصول پر عمل پیرا ہو جاتی ہیں تو اس سے زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدات پر مثبت اثر پڑے گا۔ اس حکمت عملی سے نہ صرف سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ ملکی معیشت بھی استحکام کے دور میں داخل ہو سکے گی۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
مفاہمت اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل ناگزیر ہے، امین الحق کا بیان