وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے طالبان سے متعلق مبینہ بیان پر شیری رحمان کا اظہار تشویش، سیکیورٹی اور معیشت پر اثرات کے خدشات
سینیٹر شیری رحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی سے گریز کا عندیہ دیا ہے، جس کے باعث سیکیورٹی اور معاشی صورتحال پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے عندیہ دیا ہے کہ وہ صوبے میں عسکریت پسند عناصر کے خلاف کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ شیری رحمان کے مطابق یہ مؤقف قومی سلامتی کے تقاضوں، بالخصوص دہشت گردی کے خلاف جاری ریاستی جنگ اور نیشنل ایکشن پلان کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ خیبر پختونخوا کا خطہ طویل عرصے سے سیکیورٹی چیلنجز کی زد میں رہا ہے، اور حالیہ مہینوں کے دوران سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی صوبائی حکومت کے سربراہ کی جانب سے مبینہ طور پر دفاعی اقدامات سے لاتعلقی کا اظہار ریاست کی مجموعی حکمت عملی کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ سیاسی و دفاعی مبصرین کے مطابق وفاق اور صوبے کے درمیان سلامتی کے معاملات پر مکمل ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات خیبر پختونخوا کی معیشت پہلے ہی طویل عرصے سے سیکیورٹی کے مسائل اور معاشی عدم استحکام کے دباؤ کا شکار ہے۔ سیاسی قیادت کی جانب سے سیکیورٹی پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال مقامی تجارت، درآمدات و برآمدات اور نئی سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ پشاور، بنوں، اور ضم شدہ قبائلی اضلاع کے تجارتی مراکز میں غیر یقینی کی لہر دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں سپلائی چین اور پاک افغان سرحدی تجارت میں رکاوٹیں کھڑی ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر صوبائی سطح پر انسداد دہشت گردی کے عزم میں کمزوری محسوس کی گئی تو غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری سمیت ملکی سرمایہ کار بھی صوبے سے سرمایہ منتقل کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتحال ریٹیلرز کے اعتماد کو مجروح کر کے اشیائے ضروریہ کی نقل و حرکت اور کاروباری سرگرمیوں کو محدود کر سکتی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل سینیٹر شیری رحمان نے وفاقی سطح پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے تحت ہر صوبائی حکومت ریاست کے دفاع اور عوامی تحفظ کی پابند ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نوعیت کے بیانات سے دہشت گرد عناصر کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے اور یہ ریاست کی رٹ کے لیے ایک چیلنج ہے۔ دوسری جانب، صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا امن کے قیام اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے پائیدار حل کا حامی رہا ہے، تاہم اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ عسکریت پسندی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی سے انحراف ملکی سالمیت کے منافی ہوگا۔ تاجر تنظیموں نے وفاق اور صوبائی حکومت سے فوری وضاحت اور مشترکہ جامع حکمت عملی اپنانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں اس سیاسی اور سیکیورٹی بیانیے کی گونج قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مزید شدت سے سنائی دینے کا امکان ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اس معاملے پر تلخی برقرار رہی تو انسداد دہشت گردی کے مشترکہ آپریشنز متاثر ہو سکتے ہیں۔ پائیدار امن کے قیام کے بغیر نہ صرف خطے کی بحالی ممکن نہیں بلکہ تجارتی راستوں کی حفاظت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ قومی یکجہتی اور معاشی بحالی کے لیے لازم ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز آئینی دائرہ کار کے تحت ایک منظم لائحہ عمل تشکیل دیں تاکہ عوامی اور معاشی مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp