Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

وزارت خارجہ میں جعلی تصدیقی اسٹیکرز کا اسکینڈل: ایف آئی اے کے چھاپے، 16 افراد گرفتار اور چھ اہلکاروں کی تلاش

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے دفتر خارجہ کے تصدیقی نظام میں بڑے پیمانے پر جعلسازی کا پردہ فاش کرتے ہوئے کوریئر اور کنسلٹنسی فرمز کے 16 ملزمان کو گرفتار کر لیا جبکہ وزارت کے 6 اہلکاروں کی تلاش جاری ہے۔

وزارت خارجہ میں جعلی تصدیقی اسٹیکرز کا اسکینڈل: ایف آئی اے کے چھاپے، 16 افراد گرفتار اور چھ اہلکاروں کی تلاش

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل نے ایک منظم کارروائی کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے دستاویزات کی تصدیق کے نظام میں کروڑوں روپے کی مبینہ بدعنوانی اور جعلسازی کے بین الاقوامی نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے۔ ایجنسی نے شہر کے مختلف تجارتی مراکز میں نجی تعلیمی کنسلٹنسیوں اور کوریئر کمپنیوں کے دفاتر پر بیک وقت چھاپے مار کر 16 کلیدی ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان کارروائیوں کے دوران جعلی اپوسٹل اسٹیکرز، حکومت پاکستان کی جعلی مہریں، جدید پرنٹرز اور بھاری مقدار میں غیر مصدقہ اسناد برآمد کی گئیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق، اس غیر قانونی نیٹ ورک میں دفترِ خارجہ کے عملے کے ارکان بھی براہ راست شریک پائے گئے ہیں۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق محکمے کے چھ متعلقہ اہلکاروں کی نشاندہی ہو چکی ہے جن کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں۔ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر دستاویزات کی سہل توثیق کے لیے ہیگ اپوسٹل کنونشن میں شمولیت اختیار کی تھی، تاہم بااثر عناصر نے وزارت کے اندر موجود گٹھ جوڑ کی مدد سے بیرون ملک جانے والے شہریوں کو جعلی تصدیقی اسٹیکرز مہنگے داموں جاری کرنے کا مکروہ دھندا شروع کر رکھا تھا۔

تجارتی و معاشی اثرات اس اسکینڈل کے منفی اثرات محض انتظامی بے ضابطگیوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس سے قومی معیشت، افرادی قوت کی برآمد اور ملکی کارپوریٹ سیکٹر کو غیر معمولی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ پاکستان سے ہر سال لاکھوں ہنرمند اور غیر ہنرمند ملازمین خلیجی اور یورپی ممالک کا رخ کرتے ہیں، جبکہ ہزاروں طلبہ غیر ملکی تعلیمی اداروں میں داخلے حاصل کرتے ہیں۔ اسناد کی تصدیق میں اتنے بڑے پیمانے پر جعلسازی کے انکشاف کے بعد غیر ملکی سفارت خانوں اور بین الاقوامی امیگریشن حکام کی جانب سے پاکستانی اسناد کی اسکروٹنی انتہائی سخت کیے جانے کا امکان ہے۔

اس صورتحال سے ویزا پروسیسنگ کے عمل میں طویل تاخیر پیدا ہوگی، جس کے نتیجے میں قانونی ذرائع سے ترسیلات زر بھیجنے والی نئی ورک فورس کی روانگی متاثر ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، قانونی اور پیشہ ورانہ اصولوں پر کام کرنے والے تعلیمی کنسلٹنٹس اور رجسٹرڈ کوریئر کمپنیوں کا کاروبار بھی شدید عدم اعتماد کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ ملزمان کی جانب سے فی تصدیق بھاری فیسیں وصول کر کے قومی خزانے کو بھی براہ راست محصولات سے محروم رکھا جا رہا تھا۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کے نام پر جعلی مہریں بنانے اور بین الاقوامی سطح پر ملکی وقار داؤ پر لگانے والے مافیا کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ تفتیشی حکام کے مطابق تمام برآمد شدہ مواد کا فرانزک آڈٹ شروع کر دیا گیا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اب تک کتنی جعلی تصدیق شدہ اسناد بین الاقوامی اداروں میں جمع کرائی جا چکی ہیں۔ گرفتار شدگان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان اور اینٹی کرپشن ایکٹ کے تحت سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب وزارت خارجہ کے متعلقہ ذرائع کا بتانا ہے کہ انتظامیہ نے تحقیقاتی اداروں کو تمام متعلقہ ریکارڈ تک رسائی فراہم کر دی ہے اور بدعنوانی میں ملوث کسی بھی اہلکار کو قانونی کارروائی سے بچایا نہیں جائے گا۔ تاہم عوامی اور تاجر حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ حساس نوعیت کے سرکاری اسٹیکرز اور مہروں کی اتنے طویل عرصے تک بیرونی مارکیٹ میں موجودگی وزارت کی اندرونی نگرانی اور سیکیورٹی پروٹوکولز پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ آنے والے ہفتوں میں اس تحقیقات کا دائرہ دیگر بڑے شہروں تک پھیلنے اور مزید کوریئر و کنسلٹنسی نیٹ ورکس کی گرفتاریوں کا واضح امکان ہے۔ اس نوعیت کے مالیاتی و انتظامی بحرانوں کے مستقل تدارک کے لیے مینوئل اسٹیکرز پر انحصار ختم کر کے بلاک چین ٹیکنالوجی اور سینٹرلائزڈ کیو آر کوڈ ڈیجیٹل سسٹم کو نافذ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر تصدیقی فریم ورک کو شفاف اور قابلِ اعتماد نہ بنایا تو خلیجی اور یورپی منڈیوں میں پاکستانی ورک فورس اور طلبا کا داخلہ مزید دشوار ہو جائے گا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
وزارت خارجہ میں جعلی تصدیقی اسٹیکرز کا اسکینڈل: ایف آئی اے کے چھاپے، 16 افراد گرفتار اور چھ اہلکاروں کی تلاش