طب کی دنیا میں انقلابی پیش رفت: میٹا جینومک ٹیسٹ سے مہلک بیماریوں کی بروقت تشخیص ممکن
جدید ترین میٹا جینومک ٹیسٹ کے ذریعے بیک وقت سینکڑوں مہلک بیماریوں کی تیز ترین تشخیص ممکن ہو گئی ہے، جس سے طبی اور تشخیصی شعبے میں انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے دوران جینیاتی تسلسل یعنی جینومک سیکوینسنگ نے وائرس کی اقسام کے تعین میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ اب اسی جدید ترین سائنسی طریقہ کار کو اپناتے ہوئے ماہرین طب نے ’میٹا جینومک نیکسٹ جنریشن سیکوینسنگ‘ نامی انقلابی تشخیصی نظام متعارف کرایا ہے۔ روایتی لیبارٹری ٹیسٹوں میں بیکٹیریا، فنگس یا وائرس کی تشخیص کے لیے کلچر اور مختلف الگ الگ ٹیسٹ درکار ہوتے ہیں جن پر کئی دن یا ہفتے صرف ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس میٹا جینومک ٹیسٹ انسانی خون، لعاب یا متاثرہ بافتوں کے صرف ایک نمونے کا تجزیہ کر کے بیک وقت ہزاروں مختلف پیتھوجینز کے ڈی این اے اور آر این اے کا سراغ لگا لیتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ان نایاب اور پیچیدہ امراض کے علاج میں فیصلہ کن ثابت ہو رہی ہے جہاں مریض کی حالت نازک ہو اور بیماری کی اصل وجہ فوری طور پر سامنے نہ آ رہی ہو۔
تجارتی و معاشی اثرات معاشی اور تجارتی نقطہ نظر سے میٹا جینومک ٹیسٹنگ گلوبل اور مقامی ہیلتھ کیئر مارکیٹ پر دور رس اثرات مرتب کرے گی۔ ابتدائی طور پر اس ٹیکنالوجی کے آلات اور ری ایجنٹس کی قیمتیں روایتی ٹیسٹوں کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہیں، تاہم طویل مدتی بنیادوں پر یہ نظام اسپتالوں کے قیام کے اخراجات، تشخیصی تاخیر اور غلط ادویات پر ہونے والے اربوں روپے کے ضیاع کو روکے گا۔ فارماسیوٹیکل اور بائیو میڈیکل کمپنیوں کے لیے یہ ایک منافع بخش اور نئی منڈی پیدا کر رہا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں امپورٹڈ ادویات اور خام مال پر بھاری زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے، اس نوعیت کی درست تشخیص اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری استعمال کو روک کر قومی معیشت اور صارفین کے ذاتی طبی بجٹ پر بوجھ نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نجی تشخیصی لیبارٹریز میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل بین الاقوامی طبی ماہرین اور کلینیکل ریسرچرز کا کہنا ہے کہ یہ تشخیصی انقلاب مریضوں کی زندگی بچانے کے عمل کو یکسر بدل دے گا۔ طبی محققین کے مطابق اب ڈاکٹر اندھیرے میں تیر چلانے کی بجائے ہدف پر مبنی علاج تجویز کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور ہیلتھ اکانومسٹس نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو سرکاری سرپرستی اور سبسڈیز حاصل نہ ہوئیں تو یہ صرف امیر طبقے تک محدود رہ جائے گی۔ تاجر برادری اور ہیلتھ کیئر امپورٹرز نے وفاقی حکومت اور وزارت صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ بائیو میڈیکل تشخیصی کٹس اور جینومک ڈیوائسز پر عائد ڈیوٹی اور کسٹم ٹیکسز میں چھوٹ دی جائے تاکہ عام شہریوں کے لیے یہ ٹیسٹ کم قیمت پر دستیاب ہو سکیں۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ پانچ برسوں میں میٹا جینومک ٹیسٹنگ کا دائرہ کار عالمی صحت عامہ کے انفراسٹرکچر کا لازمی جزو بننے کا قوی امکان ہے۔ جیسے جیسے سیکوینسنگ ٹیکنالوجی میں پیش رفت ہو رہی ہے، اس کے لاگت میں مسلسل کمی آ رہی ہے، جس کے باعث یہ عام لیبارٹریوں کی رسائی میں آ جائے گی۔ پاکستان میں متعدی امراض کی نگرانی اور مستقبل کی ممکنہ وبائی لہروں کی قبل از وقت شناخت کے لیے اس نظام کو قومی بیماریوں کے کنٹرول کے فریم ورک میں شامل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کی مشترکہ شراکت داری سے ملک میں ایسی سینٹرلائزڈ لیبارٹریز قائم کی جا سکتی ہیں جو نچلی سطح تک مریضوں کو اس ٹیکنالوجی کے ثمرات فراہم کر کے صحت کے مجموعی نظام کو مستحکم بنا سکیں۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp