Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

غیر ملکی میڈیکل اداروں میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ کی لازمی شرط ختم، طلبہ کے لیے نئی راہیں کھل گئیں

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے بیرون ملک میڈیکل اداروں میں داخلے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کے لیے ایم ڈی کیٹ کی لازمی شرط ختم کر دی ہے جس سے طلبہ کو بڑی راحت ملی ہے۔

غیر ملکی میڈیکل اداروں میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ کی لازمی شرط ختم، طلبہ کے لیے نئی راہیں کھل گئیں

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے ایک اہم پالیسی فیصلے کے تحت بیرون ملک کے تسلیم شدہ طبی اداروں میں داخلہ لینے والے پاکستانی طلبہ کے لیے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کی لازمی شرط کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ان طلبہ کی مشکلات کا ازالہ کرنا ہے جو بین الاقوامی سطح پر طب کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں لیکن مقامی سطح پر داخلے کے پیچیدہ اور کٹھن امتحانات کی وجہ سے تعلیمی کیریئر کے حوالے سے شش و پنج کا شکار رہتے تھے۔ اس پالیسی کے نفاذ سے اب بیرونی ممالک کی جامعات میں داخلہ لینے کے لیے ایم ڈی کیٹ کا اسکور دینا ضروری نہیں رہے گا، البتہ متعلقہ ملک اور ادارے کے اپنے داخلے کے معیارات اور قوانین بدستور نافذ العمل رہیں گے۔

تجارتی و معاشی اثرات تعلیمی شعبے اور معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کے دور رس معاشی اور کاروباری اثرات مرتب ہوں گے۔ بیرون ملک تعلیم کے حصول کے خواہشمند خاندانوں کو اب اضافی کوچنگ سینٹرز، تیاری کے مہنگے کورسز اور بار بار امتحانات دینے کے اخراجات سے نجات ملے گی۔ اس سے نہ صرف متوسط طبقے کے طلبہ کے مالی وسائل کی بچت ہوگی بلکہ تعلیمی ایجنسیوں اور کنسلٹنسی سروسز کے کاروبار میں بھی ایک صحت مند اور شفاف رقابت دیکھنے میں آئے گی۔ والدین کے لیے اپنے بچوں کو بیرون ملک بھیجنے کے مالیاتی بوجھ میں کچھ حد تک کمی واقع ہوگی کیونکہ اب وہ طویل اور غیر یقینی امتحان تیاری کے مرحلے کو چھوڑ کر براہ راست بین الاقوامی داخلہ کے عمل پر توجہ مرکوز کر سکیں گے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل طلبہ تنظیموں، والدین اور تعلیمی ماہرین نے پی ایم ڈی سی کے اس قدم کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بروقت اور انصاف پر مبنی ہے کیونکہ بیرون ملک تعلیم کا نصاب اور نظامِ امتحان پاکستان سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے یہاں کا ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ وہاں کے لیے موزوں نہیں تھا۔ دوسری جانب، بعض طبی ماہرین کا یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ اگرچہ اس شرط کے ختم ہونے سے طلبہ کی مشکلات کم ہوں گی، تاہم حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ بیرون ملک سے ڈگری لے کر پاکستان واپس آنے والے ڈاکٹرز کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور ان کے لیے نیشنل لائسنسنگ امتحان (این ایل ای) کا نفاذ پوری سختی اور شفافیت کے ساتھ جاری رکھا جائے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ پیش رفت کے حوالے سے توقع کی جا رہی ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں پاکستان سے بیرون ملک میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے جانے والے طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس سے تعلیمی منڈی میں نئے رجحانات پیدا ہوں گے اور بین الاقوامی جامعات پاکستانی طلبہ کو راغب کرنے کے لیے خصوصی پیکجز اور آسانیاں فراہم کریں گی۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اس عمل کی کڑی نگرانی کریں تاکہ طلبہ کو کسی بھی قسم کی فراڈ یا غیر معیاری تعلیمی اداروں کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس اصلاحات کے طویل المدتی نتائج پاکستان کے شعبہ صحت اور افرادی قوت کی بین الاقوامی رسائی پر مثبت اثرات مرتب کریں گے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
غیر ملکی میڈیکل اداروں میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ کی لازمی شرط ختم، طلبہ کے لیے نئی راہیں کھل گئیں