Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

سانحہ بارہ مئی کے تین مقدمات میں ملزمان عدم ثبوت پر بری، عدالتی کارروائی اور قانونی و معاشی اثرات کا تفصیلی جائزہ

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بارہ مئی دو ہزار سات کے خونی سانحے سے متعلق تین مقدمات میں شواہد نہ ہونے کے باعث ملزمان کو بری کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

سانحہ بارہ مئی کے تین مقدمات میں ملزمان عدم ثبوت پر بری، عدالتی کارروائی اور قانونی و معاشی اثرات کا تفصیلی جائزہ

اہم ترین حقائق و پس منظر کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بارہ مئی دو ہزار سات کے پرتشدد واقعات سے متعلق تین مختلف مقدمات کی سماعت مکمل کرتے ہوئے نامزد ملزمان کو عدم شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق استغاثہ ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد اور گواہان پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا، جس کے سبب عدالت نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے تمام نامزد افراد کو الزامات سے بری کرنے کا حکم صادر کیا۔ بارہ مئی دو ہزار سات کا دن پاکستان بالخصوص کراچی کی تاریخ کا ایک انتہائی سیاہ باب سمجھا جاتا ہے، جب معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی کراچی آمد کے موقع پر شہر میں وسیع پیمانے پر مسلح تصادم، ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کے واقعات پیش آئے تھے۔ ان پرتشدد واقعات میں درجنوں شہری جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے جبکہ سرکاری و نجی املاک کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ اس سانحے کے بعد درج کیے جانے والے درجنوں مقدمات گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے زائد عرصے سے مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جن میں سے متعدد مقدمات تفتیشی کمزوریوں اور گواہوں کی عدم دستیابی کے باعث خارج یا ملزمان کی بریت پر منتج ہو رہے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات کراچی ملکی معیشت کی شہ رگ اور پاکستان کا بنیادی مالیاتی و تجارتی مرکز ہے۔ بارہ مئی جیسے خونی واقعات نے نہ صرف ماضی میں ملکی معیشت کو اربوں روپے کا فوری نقصان پہنچایا تھا بلکہ شہر کے تجارتی ماحول، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور صنعتی سرگرمیوں کو بھی طویل المدتی بنیادوں پر شدید دھچکا لگایا تھا۔ کاروباری برادری کے مطابق ایسے سانحات کے بعد عدالتی نظام میں شفافیت اور فوری انصاف کا تقاضا اس لیے بھی ناگزیر ہے تاکہ کاروباری اعتماد بحال رہ سکے۔ جب سنگین جرائم کے مقدمات بغیر کسی حتمی نتیجے کے سالہا سال بعد تکنیکی خامیوں پر ختم ہوتے ہیں، تو اس سے بالواسطہ طور پر قانونی بالادستی اور سرمایہ کاری کے تحفظ پر سوالات اٹھتے ہیں۔ تاجروں کا ماننا ہے کہ ملک میں پائیدار معاشی نمو، برآمدات کے فروغ اور ریٹیل سیکٹر کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ امن و امان کے خلاف جرائم پر تفتیش کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی ناخوشگوار صورتحال سے معیشت کو محفوظ رکھا جا سکے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل عدالتی فیصلے پر دفاعی وکلا نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مؤکلین کو سیاسی انتقام اور مفروضوں کی بنیاد پر ان مقدمات میں نامزد کیا گیا تھا، اور عدالت نے مکمل قانونی کارروائی اور میرٹ کی بنیاد پر انصاف کے تقاضے پورے کیے ہیں۔ دوسری جانب قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے نمائندوں نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اتنے بڑے سانحے کے متاثرین کو طویل عرصے بعد بھی انصاف نہیں مل سکا۔ ماہرین کے مطابق پولیس کی روایتی ناقص تفتیش، فرانزک شواہد کا فقدان اور گواہوں کے تحفظ کے غیر مؤثر نظام نے استغاثہ کے مقدمے کو ابتدا ہی سے کمزور کر دیا تھا، جس کا نتیجہ بریت کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ سانحہ بارہ مئی کے باقی ماندہ مقدمات بھی قانونی اور عدالتی مراحل سے گزر رہے ہیں، تاہم ماضی کی طرح موجودہ فیصلوں سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ شواہد کی کمزوری دیگر مقدمات کے نتائج پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ آئندہ کے منظرنامے میں ریاست اور نظام انصاف پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فوجداری نظامِ تفتیش میں انقلابی اصلاحات متعارف کرائیں۔ جب تک سائنسی بنیادوں پر تفتیش اور گواہان کے تحفظ کا مؤثر میکانزم قائم نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک سنگین مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ممکن نہیں ہوگا۔ اس نوعیت کے عدالتی فیصلے مستقبل میں فوجداری نظام کی بہتری کے لیے ایک اہم سبق کی حیثیت رکھتے ہیں۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
سانحہ بارہ مئی کے تین مقدمات میں ملزمان عدم ثبوت پر بری، عدالتی کارروائی اور قانونی و معاشی اثرات کا تفصیلی جائزہ