Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

محمود خان اچکزئی کا دوٹوک مؤقف، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک لانگ مارچ معطل نہیں ہوگا

محمود خان اچکزئی نے اعلان کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک لانگ مارچ ہر صورت جاری رہے گا۔ اس سیاسی تعطل کے معاشی اور تجارتی اثرات پر کاروباری حلقے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

محمود خان اچکزئی کا دوٹوک مؤقف، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک لانگ مارچ معطل نہیں ہوگا

اہم ترین حقائق و پس منظر

ملکی سیاسی منظرنامے میں اس وقت شدت آ گئی جب پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ جب تک ان کی جماعت اور اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں کی بانی پی ٹی آئی سے براہ راست ملاقات نہیں کرائی جاتی، طے شدہ لانگ مارچ کو کسی صورت موخر یا منسوخ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد اور راولپنڈی کے اطراف میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور سیاسی محاذ آرائی عروج پر ہے۔ حالیہ ہفتوں میں تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے احتجاجی تحریکوں کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا مقصد سیاسی قیدیوں کی رہائی اور عام انتخابات کے نتائج کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، مذاکرات کے دروازے بند ہونے اور دونوں فریقین کے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے سے ریاستی مشینری اور سیاسی قیادت کے درمیان خلیج مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات

سیاسی غیر یقینی اور متوقع لانگ مارچ کی کال نے ملکی معیشت بالخصوص تجارتی مراکز پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ کراچی، لاہور اور راولپنڈی کے اہم کاروباری حبس میں تاجر برادری نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے دھرنے، سڑکوں کی بندش اور کنٹینرز کے استعمال کی وجہ سے سپلائی زنجیر شدید متاثر ہو رہی ہے، جس سے اشیائے خورونوش اور خام مال کی نقل و حمل میں رکاوٹیں حائل ہیں۔ ریٹیل سیکٹر اور ہول سیل مارکیٹوں میں خریداروں کی آمدورفت کم ہونے سے کاروباری حجم میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرمایہ کار بھی اس ماحول میں محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں اور نئی سرمایہ کاری کو روک دیا گیا ہے۔ روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور مہنگائی کے اس دور میں اس قسم کی سیاسی کشیدگی عام آدمی کی قوت خرید پر مزید بوجھ بن رہی ہے، جبکہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور طبقے کا روزگار بھی براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل

دوسری جانب حکومتی اتحاد نے اس احتجاجی سیاست کو معیشت دشمن قرار دیتے ہوئے سختی سے نمٹنے کا عندیہ دیا ہے۔ وفاقی وزراء کا کہنا ہے کہ ملک کو اس وقت کسی بھی قسم کے انتشار یا دھرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ معیشت بحالی کے نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سڑکوں پر فیصلے کرنے کی بجائے پارلیمنٹ اور عدالتوں کا دروازہ کھلا ہے، اور غیر قانونی احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ادھر اپوزیشن اتحاد اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے قائدین کا کہنا ہے کہ آئینی حقوق اور جمہوری آزادیوں سلب کرنے کے خلاف احتجاج ان کا بنیادی جمہوری حق ہے۔ محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ ریاست کو چاہیے کہ وہ ضد چھوڑ کر مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلے تاکہ ملک کو بحران سے نکالا جا سکے۔

مستقبل کا منظرنامہ

آئندہ چند روز ملکی سیاست اور معیشت کے حوالے سے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن کے مابین کوئی پس پردہ یا سامنے کا مصالحتی فارمولا طے نہیں پاتا تو لانگ مارچ کے نتیجے میں تصادم کا خدشہ بڑھ سکتا ہے، جس سے سکیورٹی صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔ کاروباری حلقے اور سول سوسائٹی دونوں طرف سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سیاسی استحکام کو جلد بحال نہ کیا گیا تو ملک کی معاشی ترقی کے اہداف کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ طے شدہ معاہدوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدامات اور اپوزیشن کی حکمت عملی ہی طے کرے گی کہ ملک کس سمت گامزن ہوگا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
محمود خان اچکزئی کا دوٹوک مؤقف، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک لانگ مارچ معطل نہیں ہوگا