لاہور مسلسل چوتھے روز دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار، تجارتی اور عوامی سرگرمیاں شدید متاثر
صوبائی دارالحکومت لاہور مسلسل چوتھے روز بھی دنیا کا آلودہ ترین شہر رہا، جہاں ائیر کوالٹی انڈیکس انتہائی خطرناک سطح پر برقرار رہنے سے معمولاتِ زندگی اور کاروباری سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر صوبائی دارالحکومت لاہور میں فضائی آلودگی کے بحران نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے اور شہر مسلسل چوتھے روز بھی عالمی سطح پر آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر براجمان رہا۔ بین الاقوامی ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اداروں کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) مسلسل خطرناک حد یعنی 400 سے تجاوز کیے ہوئے ہے، جبکہ شہر کے بعض گنجان آباد اور صنعتی علاقوں میں یہ شرح 600 کے انتہائی تشویشناک ہندسے کو بھی چھو چکی ہے۔ زہریلی دھند اور اسموگ کے باعث حدِ نگاہ نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے موٹرویز اور اہم شاہراہوں کو رات اور صبح کے اوقات میں ٹریفک کے لیے بند کرنا پڑ رہا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق فضا میں موجود باریک ذرات (پی ایم 2.5) کی مقدار محفوظ انسانی حد سے کئی گنا زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں سانس کی بیماریاں، آنکھوں میں سوزش اور دل کے امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات اسموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث صوبائی معیشت کو روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔ کسانوں اور مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت محدود ہونے کی وجہ سے غلہ منڈیوں اور سبزی منڈیوں میں ترسیل کا نظام متاثر ہوا ہے، جس کے منفی اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ رہے ہیں۔ شام کے اوقات میں بازاروں اور تجارتی مراکز میں گاہکوں کی غیر معمولی کمی دیکھی جا رہی ہے کیونکہ شہری بیماری کے خوف سے گھروں تک محدود رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ریٹیل سیکٹر خصوصاً کپڑے، جوتے اور الیکٹرانکس کی فروخت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ دوسری جانب ادویات اور ایئر پیوریفائرز کی طلب میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس نے عام آدمی کے بجٹ پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔ لاجسٹکس کمپنیوں کو بھی پروازوں میں تاخیر اور زمینی راستوں کی بندش کے سبب ترسیل میں دشواریوں کا سامنا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی ترجمان کے مطابق ماحولیاتی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں، فیکٹریوں اور فصلوں کی باقیات جلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ محکمہ ماحولیات کا کہنا ہے کہ اینٹوں کے روایتی بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل نہ کرنے والوں کو سیل کیا جا رہا ہے۔ تاہم انجمن تاجران کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کے عارضی اور روایتی اقدامات مسئلے کا مستقل حل نہیں ہیں۔ تاجروں کا مؤقف ہے کہ اوقاتِ کار کی پابندیوں یا مارکیٹیں جلدی بند کرنے سے صرف معیشت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے جبکہ آلودگی کا بنیادی سبب بننے والے عناصر بدستور فعال ہیں۔ طبی انجمنوں نے شہریوں کو ماسک کا لازمی استعمال کرنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے دنوں میں بارشیں نہ ہوئیں تو فضائی صورتحال مزید بدتر ہو سکتی ہے۔ حکومت نے آئندہ دنوں میں مصنوعی بارش کے تجربات اور تعلیمی اداروں میں جزوی تعطیلات پر غور شروع کر دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسموگ کو محض موسمی آفت سمجھنے کے بجائے صنعتی اخراج، متبادل ایندھن کی فراہمی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو برقی ذرائع پر منتقل کرنے کے لیے ایک جامع طویل مدتی حکمت عملی مرتب کی جائے، بصورت دیگر یہ معاشی اور انسانی المیہ ہر سال شدت اختیار کرتا چلا جائے گا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp