Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

لاہور میں سرکاری نرخوں پر سبزیوں اور پھلوں کی فراہمی کا دعویٰ دھرے کا دھرا رہ گیا، شہری شدید مشکلات کا شکار

لاہور بھر میں سبزیوں اور پھلوں کی سرکاری نرخوں پر فروخت محض خواب بن چکی ہے، جہاں ریٹیلرز من مانے دام وصول کر رہے ہیں اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

لاہور میں سرکاری نرخوں پر سبزیوں اور پھلوں کی فراہمی کا دعویٰ دھرے کا دھرا رہ گیا، شہری شدید مشکلات کا شکار

اہم ترین حقائق و پس منظر لاہور کے تمام چھوٹے بڑے بازاروں، اتوار بازاروں اور گلی محلوں میں پھلوں اور سبزیوں کی خرید و فروخت سرکاری نرخ ناموں کے مطابق ہونے کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ شہر کے طول و عرض میں کہیں بھی عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیائے خورونوش میسر نہیں ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ریٹ لسٹ صرف دکانوں کے کاؤنٹرز کی زینت بنی ہوئی ہے جبکہ حقیقت میں دکان دار اور ریڑھی بان اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ آلو، پیاز، ٹماٹر سمیت تمام بنیادی سبزیاں اور موسمی پھل سرکاری قیمتوں سے زائد پر بیچی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے عام آدمی کی روزمرہ زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات اس صورتحال نے معاشی دباؤ میں پہلے ہی پھنسے ہوئے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ منڈی کے اندرونی ذرائع کے مطابق ہول سیل سطح پر ہی قیمتوں میں عدم توازن پایا جاتا ہے جس کا براہ راست اثر ریٹیل مارکیٹ پر پڑتا ہے۔ پرچون فروشوں کا عذر ہوتا ہے کہ انہیں منڈی سے ہی مال مہنگے داموں ملتا ہے لہذا وہ کم نرخوں پر فروخت کرنے سے قاصر ہیں۔ دوسری جانب عوام کی قوت خرید تیزی سے زوال پذیر ہے۔ مہنگائی کی اس دوڑ میں گھریلو بجٹ مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے اور شہری سبزیاں اور پھل جیسی بنیادی غذائی ضرورت خریدنے سے بھی قاصر ہوتے جا رہے ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل شہریوں اور صارفین کی تنظیموں نے اس سنگین صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس صرف اعلانات کی حد تک فعال ہیں جبکہ عملی میدان میں کوئی ریلیف نظر نہیں آتا۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کے نمائندگان کا موقف ہے کہ سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں اور دکانیں بھی سیل کی جا رہی ہیں۔ تاہم انجمن تاجران کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو جرمانوں کے بجائے سپلائی چین کے بنیادی مسائل اور ہول سیل مارکیٹ میں قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو درست کرنا ہوگا۔

مستقبل کا منظرنامہ اگر موجودہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر موثر اقدامات نہ کیے گئے تو شہر میں مہنگائی کا جن مزید بے قابو ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف عارضی چھاپے مارنے اور جرمانوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ حکومت کو کسانوں اور ہول سیلرز کے ساتھ مل کر سپلائی چین کو شفاف بنانا ہوگا۔ جب تک منڈی کے نظام میں شفافیت اور سخت مانیٹرنگ کا عمل داخل نہیں کیا جاتا، اس وقت تک عام شہریوں کو ریلیف ملنے کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
لاہور میں سرکاری نرخوں پر سبزیوں اور پھلوں کی فراہمی کا دعویٰ دھرے کا دھرا رہ گیا، شہری شدید مشکلات کا شکار