Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

لاہور میں غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ دودھ کے استعمال سے کمسن بچہ جاں بحق، فوڈ سیفٹی اور ڈیری سیکٹر پر سنگین سوالات

لاہور کی نشتر کالونی میں زہریلا دودھ پینے سے بچے کے جاں بحق ہونے کے بعد ڈیری سپلائی چین اور فوڈ ریگولیشن کے نظام پر شدید تحفظات پیدا ہو گئے ہیں۔

لاہور میں غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ دودھ کے استعمال سے کمسن بچہ جاں بحق، فوڈ سیفٹی اور ڈیری سیکٹر پر سنگین سوالات

اہم ترین حقائق و پس منظر صوبائی دارالحکومت لاہور کے گنجان آباد علاقے نشتر کالونی میں مبینہ طور پر مضر صحت اور غیر معیاری دودھ پینے کے باعث ایک معصوم بچہ زندگی کی بازی ہار گیا، جبکہ خاندان کے دیگر افراد کی حالت غیر ہونے پر فوری طبی امداد دی گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق متاثرہ خاندان نے قریبی لوکل ڈیری شاپ سے کھلا دودھ خریدا تھا، جس کے استعمال کے فوراً بعد شدید فوڈ پوائزننگ کے علامات ظاہر ہوئیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر کارروائی کا آغاز کیا، دکان کو سربمہر کر دیا گیا اور دودھ کے نمونے تفصیلی کیمیائی تجزیے کے لیے فرانزک لیبارٹری روانہ کر دیے گئے۔ یہ افسوسناک سانحہ پنجاب بھر میں غیر معیاری اور کیمیکل ملاوٹ والے کھلے دودھ کی ترسیل کے حوالے سے درپیش سنگین خطرات کی ایک بار پھر نشاندہی کرتا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات ڈیری مارکیٹ پاکستان کے زرعی اور دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی شمار ہوتی ہے، جس میں اربوں روپے کا یومیہ کاروبار کھلے دودھ کی فروخت پر منحصر ہے۔ اس قسم کے المناک واقعات نہ صرف صارفین میں شدید خوف و ہراس پھیلاتے ہیں بلکہ مجموعی ڈیری سیکٹر کی ساکھ کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ غیر منظم سیکٹر میں کیمیکلز، یوریا اور مضر صحت اجزا کی آمیزش کے الزامات کے بعد ریٹیل منڈیوں میں کھلے دودھ کی طلب میں فوری کمی اور پیکیجڈ یا پاسچرائزڈ دودھ کی مانگ میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آتا ہے۔ چھوٹی سطح کے دیانت دار ڈیری تاجروں کا کہنا ہے کہ چند غیر قانونی عناصر کے منافع خور ہتھکنڈوں کی وجہ سے پوری مارکیٹ پر عوامی عدم اعتماد بڑھ جاتا ہے، جس سے مقامی معیشت اور کسانوں سے منڈی تک کا ترسیلی نظام براہ راست متاثر ہوتا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل واقعے پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ترجمان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملاوٹ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور اس واقعے کے تمام محرکات کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ فوڈ انسپکٹرز نے غیر معیاری دودھ کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی سفارش کی ہے۔ دوسری جانب آل پاکستان ملک سیلرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ خوراک کے معیار پر کسی سمجھوتے کے حق میں نہیں ہیں، تاہم انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ صرف چھوٹے دکانداروں تک محدود رہنے کے بجائے فارم سے لے کر شہروں تک خام مال سپلائی کرنے والی بڑی چینز اور غیر قانونی کیمیکل سپلائرز کے خلاف بھی جامع کریک ڈاؤن کرے۔ متاثرہ خاندان نے ارباب اختیار سے شفاف تحقیقات اور انصاف کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ یہ سانحہ قانون سازوں اور ریگولیٹری اداروں کے لیے ایک سخت چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ پنجاب میں پاسچرائزیشن قانون کے نفاذ کی رفتار کو تیز کرنے کے مطالبات میں شدت پیدا ہو رہی ہے تاکہ روایتی کھلے دودھ کے نظام کو مرحلہ وار جدید اور شفاف سپلائی چین میں تبدیل کیا جا سکے۔ آئندہ دنوں میں لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں دودھ کے ذخیرہ مراکز اور ترسیلی گاڑیوں کی بڑے پیمانے پر موبائل ٹیسٹنگ متوقع ہے۔ مارکیٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ٹریس ایبلٹی اور سخت مانیٹرنگ کے اقدامات بروقت نہ کیے گئے تو صارفین کا تحفظ مخدوش رہے گا اور ڈیری منڈی مسلسل بدامنی اور عدم اعتماد کا شکار رہے گی۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
لاہور میں غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ دودھ کے استعمال سے کمسن بچہ جاں بحق، فوڈ سیفٹی اور ڈیری سیکٹر پر سنگین سوالات