Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

لاہور ہائیکورٹ کا بوگس رجسٹری کیس میں سخت نوٹس، چیف جسٹس کی تفتیشی افسر پر شدید سرزنش

لاہور ہائیکورٹ میں بوگس رجسٹری کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ناقص تفتیش پر افسر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ عدالت نے شفاف اور میرٹ پر مبنی تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کا بوگس رجسٹری کیس میں سخت نوٹس، چیف جسٹس کی تفتیشی افسر پر شدید سرزنش

اہم ترین حقائق و پس منظر لاہور ہائیکورٹ میں بوگس رجسٹری اور جعلی دستاویزات کے ذریعے جائیدادوں کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق ایک اہم کیس کی سماعت ہوئی۔ دورانِ سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے تفتیشی افسر کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ تفتیش کے عمل میں سنگین خامیاں پائی جاتی ہیں جو مجرموں کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہیں۔ یہ معاملہ طویل عرصے سے زیر التواء ہے اور اس میں ملوث بڑے مافیا کے تانے بانے سرکاری دفاتر اور نجی عماٸل تک جڑے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے عام شہریوں کی املاک غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات اس طرح کے مالیاتی گھپلوں اور بوگس رجسٹریوں کے رحجان نے ملک کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ اور کاروباری ماحول کو شدید متاثر کیا ہے۔ جائیداد کے کاروبار سے وابستہ سرمایہ کاروں میں اس صورتحال کے باعث عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے، جس سے براہ راست ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے۔ جب تک املاک کے حقوق کی قانونی ضمانت اور شفافیت کو یقینی نہیں بنایا جائے گا، تب تک معاشی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اس جعلسازی سے نہ صرف معصوم شہری اپنی جمع پونجی سے محروم ہو رہے ہیں بلکہ سرکاری خزانے کو بھی ٹیکس کی مد میں بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل عدالتی کارروائی کے دوران متاثرہ فریقین نے مؤقف اختیار کیا کہ محکمہ مال اور متعلقہ اداروں کے اندرونی کرپٹ عناصر کے بغیر اس پیمانے پر جعلی رجسٹریشن کا عمل ناممکن ہے۔ دوسری جانب، تاجر برادری اور رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشنز نے بھی اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بوگس رجسٹریوں کے نیٹ ورک کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شفاف نظام کے بغیر معیشت کا پہیہ درست سمت میں نہیں چل سکتا۔

مستقبل کا منظرنامہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے سخت سرزنش کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ تفتیشی عمل میں تیزی آئے گی اور ذمہ داران کے خلاف کاتروائی کی جائے گی۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا تو یہ عدالتی فیصلہ ملک بھر میں پراپرٹی فراڈ کے سدباب کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کریں تاکہ بوگس رجسٹریوں کے اس باب کو ہمیشہ کے لیے بند کیا جا سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
لاہور ہائیکورٹ کا بوگس رجسٹری کیس میں سخت نوٹس، چیف جسٹس کی تفتیشی افسر پر شدید سرزنش