خیبر پختونخوا میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے، امن و امان اور معیشت تباہ ہو رہے ہیں: امیر مقام
وفاقی وزیر امیر مقام نے خیبر پختونخوا میں حکومت کی رٹ ختم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے صوبائی انتظامیہ کو کڑے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں بڑھتے ہوئے امن و امان کے مسائل اور سیاسی کشمکش کے تناظر میں وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے صوبائی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں حکومتی رٹ عملی طور پر ختم ہو چکی ہے اور عوامی جان و مال کے تحفظ کا کوئی مؤثر نظام باقی نہیں رہا۔ روزمرہ کے معمولات زندگی، تجارتی سرگرمیاں اور انتظامی امور شدید متاثر ہو رہے ہیں، جس سے صوبے کے عوام میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان جاری کشمکش نے انتظامی مشینری کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، جس کے اثرات نچلی سطح تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال اور حکومتی رٹ کے فقدان کے براہ راست اثرات صوبے کی معیشت، تجارت اور کاروباری سرگرمیوں پر پڑ رہے ہیں۔ سرمایہ کار صوبے میں نئی سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں جبکہ مقامی تاجر اور ریٹیلرز عدم تحفظ کے شکار ہیں۔ سکیورٹی خدچات اور ٹرانسپورٹ کے مسائل کی وجہ سے تجارتی راستے اور سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونورد اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے اور معاشی جمود کی وجہ سے بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل وفاقی حکومت اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریاں نبھانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ امن و امان اور معاشی بہتری کے بجائے صوبائی قیادت وفاق کے خلاف احتجاج اور دھرنوں کی سیاست میں مصروف ہے۔ دوسری جانب، صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی قیادت نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت جان بوجھ کر صوبے کے فنڈز روک رہی ہے اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ صوبائی ترجمان کا اصرار ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بہتری کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ اگر خیبر پختونخوا میں سیاسی کشمکش کا یہی سلسلہ جاری رہا تو صوبے کے معاشی اور انتظامی حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔ تجارتی برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاق اور صوبہ دونوں مل بیٹھ کر عوام کے معاشی حقوق اور سلامتی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ بصورت دیگر، صوبے میں بے یقینی کی فضا مزید گہری ہوگی جس کے دور رس منفی سیاسی اور معاشی نتائج برآمد ہوں گے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp