خیبر پختونخوا کی قیادت کا تنازع: بانی پی ٹی آئی کے فیصلے اور سیاسی اثرات پر بیرسٹر محمد علی کا انکشاف
تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر محمد علی سیف نے انکشاف کیا ہے کہ پارٹی کے بانی نے سابق اسپیکر اسد قیصر کے بھائی کو خیبر پختونخوا کا وزیر اعلیٰ بنانے کی تجویز مسترد کر دی تھی۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے صوبائی قیادت کے انتخاب سے متعلق ایک اہم اندرونی سیاسی راز سے پردہ اٹھایا ہے۔ ایک حالیہ بیان میں انہوں نے انکشاف کیا کہ عام انتخابات کے بعد جب صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کا مرحلہ درپیش تھا، تو سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ کو وزارت اعلیٰ کا منصب سونپنے کی تجویز سامنے آئی تھی، تاہم اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی نے اس تجویز کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد علی امین گنڈاپور کو صوبے کا وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بیرسٹر سیف کا یہ بیان پارٹی کے اندر جاری دھڑے بندی، موروثی سیاست سے بچنے کے دعووں اور باہمی کھینچ تان کی واضح عکاسی کرتا ہے، جس نے حالیہ دنوں میں صوبائی حکومتی مشینری کو متاثر کیا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات خیبر پختونخوا میں سیاسی غیر یقینی اور قیادت کے گرد گھومتے تنازعات کے براہ راست اثرات صوبائی معیشت اور تجارتی شعبے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ صوبائی کابینہ اور قیادت کی سطح پر اندرونی کشمکش کے باعث اقتصادی پالیسیوں کا تسلسل متاثر ہوا ہے۔ پشاور، مردان اور صوابی سمیت بڑے تجارتی مراکز میں تاجر برادری پالیسیوں کے عدم استحکام کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہے۔ ترقیاتی فنڈز کے اجرا میں تاخیر اور صوبائی محصولات کے ہدف میں کمی نے مقامی ریٹیل اور ہول سیل مارکیٹوں میں مندی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ مزید برآں، وفاق اور صوبے کے درمیان تناؤ کے نتیجے میں تجارتی راستوں، پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر پیش رفت سست روی کا شکار ہے، جس سے سرحد پار تجارت سے منسلک کاروباری طبقے کے مالی خسارے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل بیرسٹر محمد علی سیف کے اس بیان کے بعد پی ٹی آئی کے اندر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ ایک حلقے کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا فیصلہ پارٹی کو موروثی سیاست کے الزامات سے بچانے کے لیے اصولی تھا، جب کہ اسد قیصر کے قریبی حلقوں کا موقف ہے کہ عاقب اللہ کی پارلیمانی خدمات اور حلقے میں اثر و رسوخ کے پیش نظر ان کا نام زیر غور لایا گیا تھا۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف صوبے کے عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اقتدار اور عہدوں کی بندر بانٹ میں الجھی ہوئی ہے۔ تاجر تنظیموں نے بھی حکومتی نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اندرونی سیاسی رسہ کشی کے بجائے معاشی بحالی اور امن و امان کی ابتر صورتحال پر توجہ مرکوز کریں۔
مستقبل کا منظرنامہ خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال آنے والے دنوں میں مزید پیچیدہ ہونے کا امکان ہے۔ اگر تحریک انصاف کی قیادت نے اندرونی اختلافات پر فوری قابو نہ پایا تو صوبائی اسمبلی میں قانون سازی کا عمل اور ترقیاتی بجٹ کا استعمال مزید متاثر ہو سکتا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ سیاسی یکسوئی کے بغیر صوبے میں نجی سرمایہ کاری کا حصول ناممکن رہے گا۔ صوبائی حکومت کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ اندرونی دھڑے بندیوں سے بالاتر ہو کر معاشی ایجنڈے کو اولیت دے، تاکہ تاجروں کے تحفظات دور ہوں اور مارکیٹ میں استحکام لوٹ سکے۔ بصورت دیگر یہ سیاسی تنازعات گورننس کی ناکامی کا سبب بن سکتے ہیں۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp