Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

خیبر پختونخوا سے اسلام آباد آنے والے راستے کھل گئے، کاروباری سرگرمیاں بحال

خیبر پختونخوا سے اسلام آباد آنے والے تمام راستے ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے ہیں، جس سے معاشی اور تجارتی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں۔

خیبر پختونخوا سے اسلام آباد آنے والے راستے کھل گئے، کاروباری سرگرمیاں بحال

اہم ترین حقائق و پس منظر خیبر پختونخوا سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو ملانے والے تمام اہم راستے اور شاہراہوں کو طویل بندش کے بعد ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے سیاسی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اہم نوعیت کے رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں، جس کی وجہ سے جڑواں شہروں اور خیبر پختونخوا کے مابین زمینی رابطہ منقطع ہو چکا تھا۔ اس بندش کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ روزمرہ کی نقل و حرکت بری طرح متاثر ہوئی۔ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد رکاوٹیں ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں اب ٹریفک کی روانی بحال ہو چکی ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات شاہراہوں کی بندش کا براہ راست اثر اشیائے خوردونصب، سبزیوں، پھلوں اور صنعتی خام مال کی ترسیل پر پڑا تھا۔ کلر ٹریڈرز اور دیگر کاروباری حلقوں کے مطابق، راستے بند ہونے سے سپلائی چین شدید متاثر ہوئی جس کے نتیجے میں منڈیوں میں مہنگائی کا رجحان دیکھا گیا اور روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کا تجارتی نقصان ہوا۔ اب جب کہ راستے کھل چکے ہیں، سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کے ٹرک اسلام آباد اور راولپنڈی کی منڈیوں میں بروقت پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس بحالی سے مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں کا توازن بحال ہونے کی توقع ہے اور ریٹیلرز کو بھی ریلیف ملے گا۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل تجارتی تنظیموں اور تاجر رہنماؤں نے راستے کھولنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی سرگرمیوں کو سیاست سے بالاتر رکھنا چاہیے۔ تاجر برادری کا کہنا تھا کہ اس قسم کے دھرنوں اور راستوں کی بندش سے قومی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے اور عام تاجر کا روزگار داؤ پر لگ جاتا ہے۔ دوسری جانب، ضلعی انتظامیہ اور حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ راستے کھولنے کا اقدام امن و امان کی بہتر ہوتی ہوئی صورتحال اور شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ معمولات زندگی کو جلد از جلد بحال کیا جا سکے

مستقبل کا منظرنامہ مستقبل میں اس طرح کے معاشی تعطل سے بچنے کے لیے ماہرین اقتصادیات نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اہم تجارتی گزرگاہوں اور شاہراہوں کو ہر قسم کے احتجاج سے محفوظ رکھنے کے لیے متبادل حکمت عملی مرتب کی جانی چاہیے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ امن و امان کی بحالی کے ساتھ ساتھ تجارتی راستوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنائیں تاکہ ملک کے اندرونی حصوں خصوصاً خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان تجارت بلا تعطل جاری رہ سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
خیبر پختونخوا سے اسلام آباد آنے والے راستے کھل گئے، کاروباری سرگرمیاں بحال