فکری دہشت گردی معیشت اور معاشرے کے لیے عملی دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے، حافظ طاہر اشرفی
حافظ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ فکری دہشت گردی ملکی معیشت اور معاشرے کے لیے عملی دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے، جس کے تدارک کے لیے اجتماعی کوششیں درکار ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور دینی و سیاسی رہنما حافظ طاہر اشرفی نے حال ہی میں ایک اہم بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ فکری دہشت گردی ملکی سلامتی، معاشرتی رواداری اور معاشی ترقی کے لیے زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب خیالات کو مسخ کیا جاتا ہے اور معاشرے میں نفرت انگیز بیانیے کو فروغ دیا جاتا ہے، تو اس کے نتائج جسمانی یا عملی دہشت گردی سے کہیں زیادہ دیرپا اور تباہ کن ہوتے ہیں۔ یہ فکری انتشار نہ صرف نوجوان نسل کو گمراہ کرتا ہے بلکہ ملک کے اندرونی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا اور بعض انتہا پسندانہ نظریات کے ذریعے جو فکری خلل ڈالا گیا ہے، اس نے قومی دھارے کو متاثر کیا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات معاشی ماہرین اور تجارتی حلقوں کے مطابق، فکری دہشت گردی اور عدم استحکام براہِ راست کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور مارکیٹ کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔ جب ملک میں فکری اور نظریاتی تصادم بڑھتا ہے تو سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے، جس سے صنعتی ترقی، تجارتی سرگرمیاں اور روزگار کے مواقع متاثر ہوتے ہیں۔ ریٹیلرز اور عام تاجر برادری کے مطابق، امن و امان کا مسئلہ اور فکری انتشار براہِ راست مہنگائی، قوتِ خرید میں کمی اور کاروباری مندی کا سبب بنتے ہیں۔ ایک پرامن اور فکری اعتبار سے مستحکم معاشرہ ہی ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل مختلف مکاتب فکر کے علماء، تاجر رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے حافظ طاہر اشرفی کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ شدت پسندی اور انتہا پسندانہ رجحانات کے خلاف ایک متحد محاذ بنانے کی ضرورت ہے۔ تاجر برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ معاشی ترقی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے فکری سطح پر پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں اور نفرتوں کا خاتمہ کیا جائے۔ حکومتی سطح پر بھی اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ قومی سلامتی کے دشمنوں اور نظریاتی انتشار پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
مستقبل کا منظرنامہ ماہرین کا ماننا ہے کہ فکری دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے روایتی قانون نافذ کرنے والے اقدامات کے ساتھ ساتھ تعلیم، تربیت اور میڈیا کے ذریعے مثبت بیانیے کو فروغ دینا ہوگا۔ آنے والے دنوں میں حکومت، علماء کونسل اور تجارتی تنظیمیں مل کر ایک جامع لائحہ عمل تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں تاکہ نوجوان نسل کو منفی پروپیگنڈے سے بچایا جا سکے۔ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ فکری زہر معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر سکتا ہے، اس لیے قومی سطح پر مکالمے اور فکری ہم آہنگی کا فروغ اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp