گورنر خیبر پختونخوا کی زیر صدارت 11 رکنی مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس، معاشی استحکام اور تجارتی امور پر تفصیلی غور
گورنر خیبر پختونخوا کی زیر صدارت گیارہ رکنی ایڈوائزری کونسل کے پہلے اجلاس میں معاشی استحکام، تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور کاروباری برادری کے مسائل کے حل کے لیے لائحہ عمل طے کیا گیا۔

اہم ترین حقائق و پس منظر گورنر خیبر پختونخوا کی سربراہی میں تشکیل دی جانے والی گیارہ رکنی اعلیٰ سطح کی ایڈوائزری کونسل کا پہلا باضابطہ اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد صوبے کو درپیش معاشی اور تجارتی چیلنجز کا احاطہ کرنا اور صوبائی سطح پر اقتصادی ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔ اس کونسل میں معاشی ماہرین، صنعت کاروں، اور ممتاز کاروباری شخصیات کو نمائندگی دی گئی ہے تاکہ نجی اور سرکاری شعبے کے مابین مؤثر ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ اجلاس کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں کاروباری ماحول، درپیش انتظامی رکاوٹیں اور صنعتی زونز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
تجارتی و معاشی اثرات خیبر پختونخوا کا خطہ طویل عرصے سے سیکیورٹی اور معاشی عدم استحکام کے اثرات کا شکار رہا ہے، جس سے مقامی منڈیوں، چھوٹے تاجروں اور برآمدی صنعتوں کو نقصان پہنچا۔ ایڈوائزری کونسل کے پہلے اجلاس میں تجارتی راہداریوں، بالخصوص طورخم بارڈر کے ذریعے تجارت کو سہارا دینے اور اسمگلنگ کی روک تھام کے معاشی اثرات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کونسل کی تجاویز پر مؤثر عمل درآمد کیا گیا تو اس سے صوبے میں نہ صرف نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی بلکہ ریٹیل اور ہول سیل مارکیٹوں میں بھی استحکام آئے گا، جس سے براہ راست عام آدمی کو مہنگائی کے دباؤ سے ریلیف ملے گا۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل اجلاس کے دوران گورنر خیبر پختونخوا نے واضح کیا کہ تاجر برادری کی فلاح و بہبود اور معاشی سرگرمیوں کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کاروباری طبقے کو درپیش تمام جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ دوسری جانب، تاجر تنظیموں اور ایوان ہائے صنعت و تجارت کے نمائندوں نے کونسل کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس فورم کے ذریعے پالیسی سازوں تک تاجروں کی آواز براہ راست پہنچ سکے گی، جس سے بیوروکریٹک سرخ فیتے کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ کے لائحہ عمل کے تحت ایڈوائزری کونسل نے مختلف ذیلی کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جو زراعت، چھوٹے کاروبار، مائننگ اور سرحد پار تجارت کے شعبوں کے لیے مخصوص سفارشات مرتب کریں گی۔ کونسل کی یہ سفارشات صوبائی کابینہ اور متعلقہ وفاقی محکموں کو ارسال کی جائیں گی تاکہ پالیسی سازی میں نجی شعبے کی حقیقی آراء کو شامل کیا جا سکے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کونسل کی کامیابی کا دارمدار اس کے فیصلوں پر فوری اور شفاف عمل درآمد پر ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp