Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

خیبر پختونخوا حکومت کا مذاکرات کے آخری مرحلے میں وعدوں سے انحراف، وفاقی وزارتِ داخلہ کی شدید تنقید

وفاقی وزارتِ داخلہ نے خیبر پختونخوا حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے مذاکرات کے فیصلہ کن مرحلے پر اپنے وعدوں سے انکار کر دیا ہے، جس سے سیاسی کشیدگی اور معاشی غیر یقینی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت کا مذاکرات کے آخری مرحلے میں وعدوں سے انحراف، وفاقی وزارتِ داخلہ کی شدید تنقید

اہم ترین حقائق و پس منظر اسلام آباد اور صوبائی حکومتِ خیبر پختونخوا کے درمیان جاری مذاکرات ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ کر تعطل کا شکار ہو گئے ہیں جہاں وفاقی وزارتِ داخلہ نے صوبائی انتظامیہ پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ طویل بحث و تمحیص اور مفاہمت کے بعد طے پانے والے نکات سے صوبائی حکومت نے آخری مرحلے میں پگھلنے یا تعاون کرنے کے بجائے یکسر انکار کر دیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف سیاسی محاذ آرائی کو بڑھاوا دے رہی ہے بلکہ انتظامی امور کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔ پس منظر میں دیکھا جائے تو فریقین کے مابین امن و امان، مالیاتی امور اور آئینی معاملات پر کئی دور کی بیٹھکیں ہو چکی تھیں، لیکن عین وقت پر مؤقف تبدیل کیے جانے سے تمام پیش رفت سبوتاژ ہو گئی ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات ملک کے موجودہ نازک معاشی حالات میں اس قسم کی سیاسی و انتظامی کشیدگی براہ راست کاروباری طبقے، صنعتکاروں اور عام مارکیٹ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کلیر ٹریڈز کے تجارتی تجزیہ کاروں کے مطابق، صوبائی اور وفاقی سطح پر اس طرح کے عدم تعاون کے رویے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ جب ریاست کے اہم ستونوں کے درمیان اتفاقِ رائے نہ ہو، تو اس کا خمیازہ سپلائی چین، درآمدی و برآمدی سرگرمیوں اور مقامی منڈیوں میں قیمتوں کے توازن کی خرابی کی صورت میں بھگتنا پڑता ہے۔ خیبر پختونخوا جو کہ وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کا ایک اہم دروازہ ہے، وہاں اس سیاسی بحران کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں سست پڑ چکی ہیں، جس سے ریٹیلرز اور عام صارفین دونوں پریشان ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ انہوں نے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر صوبائی حکومت کو تمام ممکنہ ریلیف اور مطالبات پر لچک دکھائی، لیکن صوبائی قیادت نے سیاسی مفادات کی خاطر معاہدے سے راہ فرار اختیار کی۔ دوسری جانب، خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اور رہنماؤں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق ان کے جائز حقوق اور فنڈز کی فراہمی میں روڑے اٹکا رہا ہے اور یکطرفہ شرائط تھوپنے کی کوشش کی جا रही ہے۔ اس تضادِ بیانی نے دونوں طرف کے کارکنوں اور عوام میں ایک غیر یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے، جہاں ہر فریق دوسرے کو ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرانے میں مصروف ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند روز میں اگر اس تنازع کو گفت و شنید کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ معاشی ماہرین اور کاروباری تنظیموں نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ دونوں حکومتیں انا کی جنگ سے بالاتر ہو کر معیشت اور عوامی فلاح کو ترجیح دیں۔ بصورت دیگر، احتجاجی دھرنوں اور سیاسی محاذ آرائی کا یہ سلسلہ صوبے کے معاشی ڈھانچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے، جس کے اثرات طویل مدت تک محسوس کیے جائیں گے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
خیبر پختونخوا حکومت کا مذاکرات کے آخری مرحلے میں وعدوں سے انحراف، وفاقی وزارتِ داخلہ کی شدید تنقید