Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

کراچی ایئرپورٹ پر غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، کروڑوں روپے مالیت کا زر مبادلہ ضبط

کراچی ایئرپورٹ پر سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک خاتون سے لاکھوں روپے مالیت کی غیر ملکی کرنسی برآمد کر کے اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی۔

کراچی ایئرپورٹ پر غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، کروڑوں روپے مالیت کا زر مبادلہ ضبط

اہم ترین حقائق و پس منظر کراچی کے جناح بین الاقوامی ایئرپورٹ پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کسٹم حکام نے ایک بڑی کارروائی کے دوران بیرون ملک جانی والی ایک خاتون مسافر کے قبضے سے بھاری مقدار میں غیر ملکی کرنسی برآمد کر لی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ کرنسی انتہائی مہارت کے ساتھ سامان میں چھپائی گئی تھی جسے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر ملک سے باہر منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ایئرپورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی چیکنگ کے دوران اس مشکوک سرگرمی کا انکشاف ہوا، جس پر فوری طور پر متعلقہ حکام کو مطلع کیا گیا اور مسافر کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ایئرپورٹس پر سیکیورٹی اور انٹیلی جنس نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، جہاں اسمارٹ اسکیننگ کے باوجود اس قسم کی کوششیں سیکیورٹی اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات غیر ملکی کرنسی کی اس طرح کی غیر قانونی اسمگلنگ براہ راست ملکی معیشت، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر اثرانداز ہوتی ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق، اس نوعیت کے اسمگلنگ کے مکروہ دھندے سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر اور دیگر بڑی کرنسیوں کی مصنوعی قلت پیدا ہوتی ہے، جو بلیک مارکیٹ کو فروغ دیتی ہے۔ اس سے نہ صرف برآمدات اور درآمدات کا توازن بگڑتا ہے بلکہ عام صرافہ مارکیٹ اور کاروباری طبقے کے لیے بھی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاجر برادری نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر غیر قانونی طور پر سرمائے کی باہر منتقلی پر مکمل قابو نہ پایا گیا تو اس کے ملکی معیشت پر دور رس اور تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل واقعے کے بعد کسٹم اور قانون نافذ کرنے والا اداروں کے اعلیٰ حکام نے پریس کو بتایا کہ ملک دشمن اور معاشی استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی ملکی معیشت کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ابتدائی تفتیش کے دوران خاتون مسافر سے اہم انکشافات متوقع ہیں، اور اس بات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ اس پورے نیٹ ورک کے پیچھے کون سے بڑے کردار فرنٹ مین کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، تاجر تنظیموں اور سول سوسائٹی نے سیکیورٹی اداروں کی اس بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس اسمگلنگ نیٹ ورک کی جڑوں تک پہنچا جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے جرائم کا سدباب کیا جا سکے۔

مستقبل کا منظرنامہ اس واقعے کے تناظر میں ملک کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی مزید سخت کرنے اور انٹیلی جنس رپورٹس کو زیادہ مؤثر بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے کرنسی کے غیر قانونی لین دین اور ترسیل پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت نے اس نوعیت کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کڑے عدالتی فیصلے صادر کیے اور سزاؤں کا نفاذ یقینی بنایا تو اس سے غیر قانونی سرمائے کی فرار کو روکنے میں بڑی مدد ملے گی۔ آئندہ دنوں میں ایئرپورٹس پر کسٹم چیکنگ کے طریقہ کار کو مزید جدید اور شفاف بنایا جائے گا تاکہ ملکی معیشت کو اس قسم کے نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
کراچی ایئرپورٹ پر غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، کروڑوں روپے مالیت کا زر مبادلہ ضبط