Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی فنڈز کے آڈٹ کا مطالبہ، مالیاتی شفافیت پر نئی بحث کا آغاز

عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما ثمر بلور نے خیبر پختونخوا کو انسداد دہشت گردی کی مد میں موصول ہونے والے 800 ارب روپے کے باضابطہ آڈٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی فنڈز کے آڈٹ کا مطالبہ، مالیاتی شفافیت پر نئی بحث کا آغاز

اہم ترین حقائق و پس منظر خیبر پختونخوا میں طویل عرصے سے جاری بدامنی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی انتظامیہ کو فراہم کیے جانے والے مالی وسائل کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی و عوامی حلقوں میں زیر بحث آ گیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی ترجمان اور ممتاز پارلیمان ثمر ہارون بلور نے صوبے کو انسداد دہشت گردی کے لیے موصول ہونے والے تقریباً 800 ارب روپے کے فنڈز کے باضابطہ اور آزادانہ آڈٹ کا دوٹوک مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اتنی بھاری رقم خرچ کیے جانے کے باوجود صوبے میں امن و امان کی صورت حال تسلی بخش نہیں ہو سکی اور پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درکار جدید وسائل، اسلحہ اور ٹیکنالوجی کی فراہمی میں بدستور خامیاں پائی جاتی ہیں۔ ماضی کے ادوار سے لے کر موجودہ صوبائی حکومت تک ان فنڈز کے استعمال کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات نے خطے کے انتظامی نظام پر کئی ابہام پیدا کر دیے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات سیکیورٹی کے نام پر مختص اربوں روپے کے بجٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے براہ راست اثرات خیبر پختونخوا کی معیشت اور تجارتی سرگرمیوں پر مرتب ہوئے ہیں۔ امن و امان کی نازک صورت حال کے باعث پشاور سمیت دیگر بڑے شہروں میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار نئی سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔ ریٹیل مارکیٹس، سرحد پار تجارت اور صنعتی بستیوں میں خوف اور غیر یقینی کی فضا قائم رہنے سے اشیاء کی ترسیل میں رکاوٹیں آ رہی ہیں، جس سے کاروباری لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ تاجر برادری کا ماننا ہے کہ اگر یہ 800 ارب روپے شفاف انداز میں انٹیلی جنس نیٹ ورک، پولیس فورس کی استعداد کار اور بارڈر سیکیورٹی پر صرف کیے جاتے تو آج صوبے میں تجارتی ماحول محفوظ ہوتا، جس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے بلکہ پختونخوا کے مالیاتی خسارے میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی تھی۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل ثمر بلور نے اپنے بیان میں زور دیا کہ عوامی فنڈز قومی امانت ہیں اور عوام کو یہ جاننے کا پورا حق حاصل ہے کہ دفاع اور انسداد دہشت گردی کے نام پر منظور کی گئی بھاری رقوم کن منصوبوں پر خرچ کی گئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی احتساب بیورو، آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور عدالتی کمیشن کے ذریعے اس رقم کا مکمل تخمینہ لگایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ دوسری جانب حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ وفاق کی جانب سے کیے جانے والے دعوے ہمیشہ زمینی حقائق کے مطابق فنڈز کی بروقت ادائیگی سے ہم آہنگ نہیں رہے اور صوبائی حکومت دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے۔ سیاسی مبصرین اس تنازع کو محض الزام تراشی کے بجائے ریاستی اداروں کے مالیاتی چیک اینڈ بیلنس کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں اس معاملے کی بازگشت صوبائی و قومی اسمبلی کے علاوہ عدالتی فورمز پر بھی سنے جانے کا قوی امکان ہے۔ اگر ان فنڈز کا جامع مالیاتی و فرانزک آڈٹ کرایا جاتا ہے تو اس سے ریاستی وسائل کے ضیاع اور بدعنوانی کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے میں مدد ملے گی، بصورت دیگر سیاسی تنازعات کی شدت میں اضافہ ہوگا جس سے براہ راست امنِ عامہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ خیبر پختونخوا کی معاشی بحالی اور تجارتی شعبے کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ بجٹ مختص کرنے اور اس کے مصارف کے طریقہ کار میں کڑی نگرانی لائی جائے تاکہ عوامی سرمایہ محفوظ رہ سکے اور حقیقی معنوں میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہو۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی فنڈز کے آڈٹ کا مطالبہ، مالیاتی شفافیت پر نئی بحث کا آغاز