Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

تحریک انصاف کا محمود خان اچکزئی پر مکمل اعتماد کا اعادہ، سیاسی اتحاد میں دراڑ کی تردید

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے محمود خان اچکزئی پر بانی پی ٹی آئی کے مکمل اعتماد کا اعلان کرتے ہوئے سیاسی اتحاد میں اختلافات کی افواہوں کی واضح تردید کی ہے۔

تحریک انصاف کا محمود خان اچکزئی پر مکمل اعتماد کا اعادہ، سیاسی اتحاد میں دراڑ کی تردید

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان کی سیاست میں جاری رسہ کشی اور اپوزیشن اتحاد کے حوالے سے گردش کرنے والی قیاس آرائیوں پر پاکستان تحریک انصاف نے دوٹوک موقف اختیار کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو کسی صورت سیاسی منظرنامے یا اپوزیشن کی تحریک سے مائنس نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو محمود خان اچکزئی کی سیاسی بصیرت، جمہوری جدوجہد اور اصولی موقف پر مکمل اعتماد حاصل ہے۔ حالیہ دنوں میں سیاسی حلقوں میں یہ تاثر ابھر رہا تھا کہ مذاکرات اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کے تعین میں اچکزئی کے کردار کو محدود کیا جا رہا ہے، تاہم پارٹی قیادت نے ان تمام خبروں کو بے بنیاد قرار دے کر اتحاد کے تسلسل پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات ملک میں سیاسی محاذ آرائی اور مسلسل عدم استحکام کے معیشت، منڈیوں اور تجارتی سرگرمیوں پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کلیار ٹریڈرز کے تجارتی اور معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک ملک میں سیاسی استحکام کی واضح سمت کا تعین نہیں ہوتا، تب تک ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار طویل مدتی سرمایہ کاری سے گریزاں رہیں گے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت ملک کے اہم تجارتی مراکز میں سیاسی کشیدگی کے سبب سپلائی چین متاثر ہونے اور درآمدی و برآمدی لاگت میں اضافے کے خدشات بدستور موجود رہتے ہیں۔ ریٹیل مارکیٹ اور تھوک منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام نہیں آ پا رہا، جس سے عام صارف اور چھوٹے تاجر یکساں طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی آئین پاکستان کی بالادستی اور پارلیمانی خودمختاری کی علامت ہیں اور ان کے ساتھ سیاسی اشتراک کسی وقتی مفاد کے تحت نہیں بلکہ اصولی بنیادوں پر قائم ہے۔ دوسری جانب حکومتی وزراء اور ترجمانوں کا موقف ہے کہ اپوزیشن کا اتحاد ذاتی مفادات کا تحفظ چاہتا ہے اور ان کے اندرونی اختلافات جلد کھل کر عوام کے سامنے آ جائیں گے۔ تاجر برادری نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ ملکی معیشت کو نازک موڑ سے نکالنے کے لیے محاذ آرائی کے بجائے پارلیمانی دائرہ کار میں رہ کر افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا جائے تاکہ کاروباری فضا سازگار ہو سکے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں اپوزیشن کا گرینڈ الائنس اپنی حکمت عملی کو مزید جارحانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں محمود خان اچکزئی کا کردار کلیدی رہے گا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اعتماد کی توثیق کے بعد اپوزیشن صفوں میں اتحاد مضبوط ہونے کا امکان ہے، تاہم اس سیاسی کشمکش کے نتیجے میں قانون سازی اور معاشی اصلاحات کا عمل سست روی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی مکالمے کے دروازے بند رہے تو معاشی اشاریوں میں عارضی بہتری کے باوجود مارکیٹ کا اعتماد بحال کرنا انتہائی دشوار ثابت ہوگا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
تحریک انصاف کا محمود خان اچکزئی پر مکمل اعتماد کا اعادہ، سیاسی اتحاد میں دراڑ کی تردید