Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

کراچی یونیورسٹی روڈ کی تعمیر کا تکمیل کے قریب ہونا اور معاشی زندگی پر اس کے اثرات

کراچی کے یونیورسٹی روڈ کی تعمیر نو کا منصوبہ آخری مراحل میں پہنچ گیا ہے۔ سندھ حکومت نے طویل تاخیر اور شہریوں کو درپیش مشکلات پر معذرت کا اظہار کیا ہے۔

کراچی یونیورسٹی روڈ کی تعمیر کا تکمیل کے قریب ہونا اور معاشی زندگی پر اس کے اثرات

اہم ترین حقائق و پس منظر کراچی کے مصروف ترین اور مرکزی شریانوں میں شمار ہونے والے یونیورسٹی روڈ کی تعمیر و مرمت کا منصوبہ طویل عرصے سے التوا اور سست روی کا شکار تھا۔ اس منصوبے میں تاخیر کے باعث روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں شہریوں، طلبہ اور مسافروں کو شدید ٹریفک جام، کوڑے کرکٹ اور ٹੁੱٹی سڑکوں کی وجہ سے ناگہانی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ایکسائز شرجیل انعام میمن نے حالیہ پریس کانفرنس اور دورے کے دوران باضابطہ طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ منصوبے کی طویل طوالت نے شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنائے رکھا، جس پر حکومت پشیمان ہے اور عوام سے مخلصانہ معذرت خواہ ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اب بنیادی تعمیراتی کام تکمیل کے قریب ہے اور اس کڑے مرحلے کو جلد از جلد ختم کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جا रहा ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات کسی بھی شہر کی معیشت کا دارومدار اس کے انفراسٹرکچر بالخصوص سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے نظام پر ہوتا ہے۔ یونیورسٹی روڈ کے اطراف سینکڑوں چھوٹے بڑے کاروباری مراکز، مارکیٹس، تعلیمی ادارے اور تجارتی دفاتر واقع ہیں۔ سڑک کی ابتر حالت کے باعث خریداروں اور تاجروں کی آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی تھی، جس سے مقامی ریٹیلرز اور کاروباری حضرات کو مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ مال بردار گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے اس راستے پر سفر کرنا انتہائی دشوار اور مہنگا ہو چکا تھا۔ روڈ کی تکمیل سے نہ صرف ایندھن کے ضیاع میں کمی آئے گی بلکہ کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی، سپلائی چین مستحکم ہوگی اور عام شہریوں کے لیے نقل و حمل کے اخراجات میں بھی اعتدال آئے گا۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی ترجمان اور وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کا مؤقف ہے کہ عوامی فلاح و بہبود کے بڑے منصوبوں میں تکنیکی اور انتظامی رکاوٹیں حائل ہو جاتی ہیں، تاہم حکومت عوام کی مشکلات کا احساس رکھتی ہے۔ تاجر برادری اور شہریوں کے نمائندوں نے اس اعتراف کو سراہا ہے لیکن ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ مستقبل میں ایسے ترقیاتی منصوبوں کے لیے سخت ٹائم لائنز مقرر کی جائیں تاکہ تاخیر کی روایت کو روکا جا سکے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کاموں کے دوران متبادل راستوں کی ناقص منصوبہ بندی نے ان کے کاروبار کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، لہذا آئندہ کے لیے بہتر حکمت عملی بنائی جائے۔

مستقبل کا منظرنامہ یونیورسٹی روڈ کی مکمل بحالی کے بعد اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ اس کی دیکھ بھال کے لیے ایک موثر نظام تشکیل دیا جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سڑک کی بروقت تکمیل سے اس روڈ پر چلنے والی گرین لائن بس سروس اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے سفر کے وقت میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس علاقے میں ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے مستقل ٹریفک پولیس کی تعیناتی اور روڈ کٹنگ کے غیر قانونی عمل پر سختی سے پابندی عائد کرے تاکہ کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ انفراسٹرکچر طویل عرصے تک عوام اور معیشت کے لیے مفید ثابت ہو سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
کراچی یونیورسٹی روڈ کی تعمیر کا تکمیل کے قریب ہونا اور معاشی زندگی پر اس کے اثرات