کراچی پروٹیکٹر آفس میں مبینہ کرپشن کا انکشاف، قانونی دستاویزات کے نام پر اضافی رقوم وصول کرنے کی شکایات
کراچی کے پروٹیکٹر آف ایمیگرینٹس کے دفتر میں پروٹیکٹر کلیئرنس کے نام پر شہریوں سے مبینہ غیر قانونی رقوم وصول کیے جانے اور بدعنوانی کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر کراچی میں واقع پروٹیکٹر آف ایمیگرینٹس کے دفتر میں بیرونی ممالک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں سے قانونی دستاویزات اور کلیئرنس کے نام پر مبینہ طور پر بھاری رقوم بطور رشوت وصول کیے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع اور متاثرہ افراد کے مطابق، خلیجی اور یورپی ممالک جانے والے مزدور طبقے اور ہنرمند افراد کو پروٹیکٹر مہر لگوانے کے عمل میں دانستہ طور پر کاغذی پیچیدگیوں اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ قواعد و ضوابط کے تحت مقررہ سرکاری فیسوں کی ادائیگی کے باوجود مبینہ طور پر نجی ایجنٹوں کے نیٹ ورک کے ذریعے فی پاسپورٹ اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے، جس کے بغیر پروٹیکٹر کلیئرنس کا حصول عملاً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات افرادی قوت کی بیرون ملک روانگی ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ ترسیلات زر کے ذریعے پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کا غیر ملکی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ اس قسم کی انتظامی بدعنوانی اور ایجنٹ مافیا کی من مانیوں سے نہ صرف قانونی روزگار کے متلاشی افراد پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے بلکہ ملازمت کے معاہدوں کی میعاد ختم ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ پروموٹرز اور ریکروٹنگ ایجنسیوں کے مطابق کلیئرنس میں غیر ضروری تاخیر بین الاقوامی آجروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہے، جس کے نتیجے میں غیر ملکی کمپنیاں متبادل ممالک کی طرف رخ کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں، جو پاکستان کے غیر منظم لیبر مارکیٹ اور بیرونی تجارت دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل متاثرہ شہریوں اور اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ پروٹیکٹر دفاتر میں عملے کی عدم توجہی اور مبینہ بدعنوانی معمول بن چکی ہے، جس کے خلاف فوری تحقیقات عمل میں لائی جانی چاہئیں۔ دوسری جانب، متعلقہ حکام نے ان الزامات پر وضاحت دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام پروسیسنگ قواعد و ضوابط کے تحت کی جاتی ہے اور غیر قانونی رقوم طلب کرنے کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف شکایات کی بنیاد پر کارروائی کی جاتی ہے۔ تاجر برادری اور اوورسیز ایسوسی ایشن نے وفاقی وزارت سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل سے مطالبہ کیا ہے کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سسٹم کو مکمل ڈیجیٹلائز کیا جائے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ پیش رفت کے تحت وفاقی تحقیقاتی ادارے اور وزارت سمندر پار پاکستانیز کی جانب سے نظام میں خامیوں کے خاتمے کے لیے اصلاحات ناگزیر دکھائی دیتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر نادرا اور اسٹیٹ بینک کے اشتراک سے بائیو میٹرک تصدیق اور آن لائن ون ونڈو کلیئرنس نافذ نہ کی گئی تو یہ صورتحال انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک سفر کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بن سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں شفافیت کے نفاذ اور شفاف پورٹل کے قیام کے بغیر ترسیلات زر کے بہاؤ کو محفوظ رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp