قومی سلامتی اور سیاسی تنازعات: بیرسٹر گوہر کے ایمرجنسی اقدامات پر سوالات اور معاشی استحکام پر اثرات
بیرسٹر گوہر خان نے سیکیورٹی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے شفافیت کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق جاری سیاسی و سیکیورٹی کشیدگی قومی معیشت اور تجارتی اعتماد کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے حالیہ سیکیورٹی صورتحال اور مخصوص علاقوں میں نافذ کیے جانے والے ہنگامی اقدامات پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں جہاں ہنگامی نوعیت کے فیصلے نافذ کیے گئے، وہاں دہشت گرد عناصر کی آڑ میں دیگر محرکات کارفرما ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم متحد ہے، تاہم انسداد دہشت گردی کے اقدامات کو سیاسی مقاصد یا جمہوری حقوق سلب کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ملک پہلے ہی شدید سیاسی پولرائزیشن کا شکار ہے، اور ایسے حالات میں شفاف پالیسیوں کے بغیر اٹھائے جانے والے اقدامات شکوک و شبہات کو جنم دیتے ہیں۔ انہوں نے پارلیمان کو اعتماد میں لینے اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کا دائرہ کار طے کرنے کا مطالبہ کیا۔
تجارتی و معاشی اثرات ملک میں امن و امان کی غیر یقینی صورتحال اور سیکیورٹی تنازعات نے تجارتی اور کاروباری حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔ کلیار ٹریڈرز کے تجارتی و مالیاتی جائزے کے مطابق، کسی بھی خطے میں ہنگامی اقدامات اور سیکیورٹی آپریشنز کے نتیجے میں ترسیل و نقل و حمل (لاجسٹکس) کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سمیت دیگر متاثرہ علاقوں میں سپلائی چین متاثر ہونے کی وجہ سے اشیائے خورونوش اور خام مال کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار طویل مدتی منصوبوں میں سرمایہ لگانے سے گریزاں ہیں، جس کے اثرات پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر پڑ رہے ہیں۔ ریٹیلرز اور ہول سیل مارکیٹ کے تاجروں کا کہنا ہے کہ تجارتی مراکز کے اوقاتِ کار پر قدغنیں اور غیر اعلانیہ ناکہ بندیاں معاشی پہیے کی رفتار سست کر دیتی ہیں، جس سے بالآخر عام صارف کی قوتِ خرید اور روزگار کے مواقع متاثر ہوتے ہیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی حلقوں کی جانب سے بیرسٹر گوہر کے بیان پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا موقف ہے کہ ریاست شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا آئینی حق رکھتی ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق جہاں کہیں بھی سخت انتظامی اقدامات کیے گئے، ان کا واحد مقصد انتہا پسند عناصر کے نیٹ ورک کو توڑنا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کا اصرار ہے کہ سیکیورٹی کو جواز بنا کر بنیادی شہری حقوق پر قدغن نہیں لگائی جانی چاہیے۔ تاجر تنظیموں اور چیمبرز آف کامرس نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی محاذ آرائی ختم کر کے ملکی مفاد کو ترجیح دیں، کیونکہ سیاسی کشمکش اور بدامنی کا براہ راست خمیازہ کاروباری برادری اور معیشت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ آنے والے دنوں میں سیکیورٹی پالیسی اور پارلیمانی بحث ملک کے مستقبل کا رخ متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سیکیورٹی معاملات پر شفافیت اور تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں نہ لیا گیا تو بد اعتمادی کی خلیج مزید گہری ہو سکتی ہے۔ معاشی بحالی کا دارومدار اندرونی سیاسی و اسٹریٹجک استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن کے مابین سیکیورٹی ایشوز پر کم از کم ایجنڈے پر اتفاق رائے نہ ہوا، تو مالیاتی منڈیاں مسلسل دباؤ کا شکار رہیں گی۔ تاجر برادری پرامید ہے کہ ریاست معاشی ترجیحات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسے پائیدار اقدامات کرے گی جن سے امن بھی قائم رہے اور کاروباری سرگرمیاں بھی تعطل کا شکار نہ ہوں۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp