Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

خیبر پختونخوا کے مسائل کا حل آئینی حدود اور پارلیمانی فورمز میں مضمر ہے، جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد

سابق جج سپریم کورٹ جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے خیبر پختونخوا کے مسائل کو آئینی تقاضوں کے تحت پارلیمان اور صوبائی اسمبلی میں زیر بحث لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے مسائل کا حل آئینی حدود اور پارلیمانی فورمز میں مضمر ہے، جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد

اہم ترین حقائق و پس منظر سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج اور ممتاز قانونی ماہر جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے خیبر پختونخوا کے موجودہ انتظامی و سیاسی بحران کے حوالے سے اپنے واضح مؤقف میں کہا ہے کہ صوبے کے درپیش مسائل کو آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے فلور پر لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ پارلیمانی فورمز کو نظرانداز کر کے لیے جانے والے غیر روایتی فیصلے نہ صرف نظام کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خطے کے عوام میں بے چینی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ خیبر پختونخوا گزشتہ چند دہائیوں سے سکیورٹی چیلنجز، قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد پیدا ہونے والی قانونی و مالیاتی پیچیدگیوں، اور وفاق کے ساتھ وسائل کی تقسیم کے تضادات کا سامنا کر رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، ان دیرینہ اور سنجیدہ نوعیت کے مسائل کا حل محض بند کمروں کی مشاورت میں تلاش کرنے کے بجائے پارلیمان کے باضابطہ بحث و مباحثے کے ذریعے قانون سازی کی صورت میں نکلنا چاہیے۔

تجارتی و معاشی اثرات خیبر پختونخوا میں سیاسی غیر یقینی کی کیفیت اور انتظامی تنازعات کا براہ راست منفی اثر صوبائی و ملکی تجارت پر مرتب ہو رہا ہے۔ صوبے کی سرحدیں افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ متصل ہیں، جہاں سے سالانہ اربوں روپے کا دوطرفہ اور ٹرانزٹ ٹریڈ سرانجام پاتا ہے۔ امن و امان اور آئینی و انتظامی بے یقینی کی وجہ سے نہ صرف پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سست روی کا شکار ہے بلکہ پشاور، حیات آباد، صوابی اور ہری پور کے صنعتی زونز میں پیداواری لاگت بڑھ چکی ہے۔ لوکل مارکیٹوں، سپلائی چینز اور ریٹیلرز کے لیے کاروباری غیر یقینی کے باعث سرمایہ کاری محدود ہو رہی ہے۔ اگر پارلیمانی سطح پر صوبے کو مالیاتی خودمختاری اور وسائل کی منصفانہ ترسیل کا روڈ میپ فراہم نہ کیا گیا تو ریٹیل اور ہول سیل سیکٹر میں قیمتوں کا دباؤ بڑھے گا، جس کا حتمی بوجھ پہلے سے مہنگائی کے مارے عام صارفین پر پڑے گا۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل قانونی اور سیاسی حلقوں نے جسٹس (ر) وجیہہ الدین کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے پارلیمانی بالادستی پر اصرار کیا ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 140 اور مشترکہ مفادات کونسل ایسے بنیادی پلیٹ فارمز ہیں جہاں وفاق اور صوبوں کے تمام حل طلب تنازعات طے پانے چاہئیں۔ دوسری جانب تاجر تنظیموں اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس کے نمائندوں نے بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی سیاسی محاذ آرائی ختم کر کے تاجروں کو محفوظ کاروباری ماحول فراہم کریں۔ متعلقہ صوبائی حلقوں کا مؤقف ہے کہ این ایف سی ایوارڈ اور سکیورٹی فنڈز کی بروقت ادائیگی کے بغیر صوبائی انتظامی مشینری کا مکمل فعال ہونا ممکن نہیں، اس لیے پارلیمان کو فوری کردار ادا کرنا ہوگا۔

مستقبل کا منظرنامہ مستقبل کے تناظر میں یہ امر ناگزیر ہے کہ وفاقی قیادت اور صوبائی انتظامیہ کے مابین باضابطہ ادارہ جاتی رابطہ کاری بحال کی جائے۔ اگر خیبر پختونخوا کے سکیورٹی اور ترقیاتی معاملات کو آئینی دائرہ کار میں لاتے ہوئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں زیر بحث نہ لایا گیا تو سیاسی خلا شدت اختیار کر سکتا ہے۔ قانون دانوں کے مطابق ایک مربوط پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل ہی واحد راستہ ہے جو سکیورٹی پالیسی، مالی وسائل کی منتقلی اور سرحدی تجارت کو تحفظ دے سکے۔ آنے والے ہفتوں میں حکومتی صفوں اور پارلیمانی قیادت کی جانب سے اس آئینی مطالبے پر مثبت پیش رفت نہ صرف پختونخوا میں امن و امان کی ضامن بنے گی بلکہ ملکی معاشی استحکام کی راہ بھی ہموار کرے گی۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
خیبر پختونخوا کے مسائل کا حل آئینی حدود اور پارلیمانی فورمز میں مضمر ہے، جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد