اسلام آباد ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ: پاسپورٹ رولز 2021 کی شق 22 ٹو بی کالعدم قرار
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاسپورٹ رولز 2021 کی متنازعہ شق 22 ٹو بی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے شہریوں کے سفری آزادی کے بنیادی حق کو بحال کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے کاروباری طبقے اور عام شہریوں کو بڑی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک انتہائی اہم اور تاریخ ساز فیصلے میں پاسپورٹ رولز 2021 کی شق 22 ٹو بی کو آئین پاکستان کے بنیادی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے۔ یہ شق طویل عرصے سے حکومتی سطح پر شہریوں کے سفری دستاویزات کے حصول میں رکاوٹ کا باعث بنی ہوئی تھی۔ اس شق کے تحت مجاز حکام کو لامحدود اختیارات حاصل تھے جن کی بنیاد پر صوابدیدی فیصلے کیے جاتے تھے اور بالخصوص تاجر برادری، سیاسی کارکنان اور مختلف نوعیت کے مقدمات کا سامنا کرنے والے افراد کو پاسپورٹ کے حصول سے روکا جاتا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 15 ہر شہری کو ملک کے اندر نقل و حرکت اور آزادانہ سفر کا حق دیتا ہے، اور کوئی بھی ذیلی قانون آئین کی روح کے خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔
تجارتی و معاشی اثرات کلیار ٹریڈرز کے معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پاسپورٹ رولز کی اس شق کے خاتمے سے ملک کی کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں پر انتہائی گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کے تاجر اور صنعت کار جو بین الاقوامی مارکیٹوں تک رسائی کے لیے بار بار بیرونی دورے کرتے ہیں، اس فیصلے کے بعد بلا جواز سفری پابندیوں سے محفوظ ہو جائیں گے۔ ماضی میں اس متنازعہ شق کی وجہ سے برآمد کنندگان اور کاروباری وفود بروقت بین الاقوامی نمائشوں اور تجارتی مذاکرات میں شرکت سے محروم رہ جاتے تھے، جس سے ملکی برآمدات اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچتا تھا۔ اب اس رکاوٹ کے دور ہونے سے کاروباری برادری آزادانہ طور پر عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکے گی جس سے تجارتی حجم میں اضافے کی توقع ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل عدالت کے اس فیصلے پر قانونی حلقوں، بار کونسلز اور تاجر تنظیموں کی طرف سے شدید تحسین کا اظہار کیا گیا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انتظامیہ کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب، وزارت داخلہ اور پاسپورٹ اینڈ امیگریشن حکام نے عدالتی فیصلے کا تفصیلی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاکہ قانون کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے اور سکیورٹی خدشات کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جا سکے۔
مستقبل کا منظرنامہ اس فیصلے کے بعد اب حکومت اور متعلقہ اداروں پر لازم ہو گیا ہے کہ وہ پاسپورٹ کے اجرا اور ضبطگی کے عمل کو مکمل طور پر شفاف بنائیں اور اسے عدالتی فیصلوں سے ہم آہنگ کریں۔ مستقبل میں اس نوعیت کی رکاوٹوں کے خاتمے سے نہ صرف عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان ہم آہنگی بڑھے گی بلکہ عام شہریوں اور کاروباری طبقے کا ریاست کے انصاف کے نظام پر اعتماد بھی مزید مستحکم ہوگا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp