بجلی کے نرخوں اور ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف جماعت اسلامی کا بذریعہ ٹرین اسلام آباد مارچ کا اعلان
جماعت اسلامی نے بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بھاری ٹیکسز کے خلاف بذریعہ ٹرین دارالحکومت اسلام آباد کی جانب احتجاجی لانگ مارچ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے بجلی کے ہوش ربا نرخوں، آزاد بجلی گھروں (آئی پی پیز) کو کی جانے والی بے جا ادائیگیوں اور ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف دارالحکومت اسلام آباد کی طرف ٹرین لانگ مارچ شروع کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ کراچی اور ملک کے دیگر بڑے شہروں سے ریلوے اسٹیشنوں کے ذریعے شروع ہونے والا یہ مارچ بالآخر وفاقی دارالحکومت میں احتجاجی دھرنے کی صورت اختیار کرے گا۔ پس منظر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے شدہ شرائط کے تحت حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے پر عائد کی گئی بھاری لیویز، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹس اور تنخواہ دار و تاجر طبقے پر مسلط ٹیکسز نے عوامی و صنعتی سطح پر شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی اس تحریک کو عوامی اور تجارتی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد قرار دے رہی ہے، جس کا مقصد حکومت کو اپنے معاشی فیصلوں پر نظرثانی پر مجبور کرنا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات ملک گیر سطح پر اس لانگ مارچ کے براہِ راست اثرات صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں پر مرتب ہونے کے واضح خدشات موجود ہیں۔ ٹرین مارچ اور ممکنہ دھرنے سے جڑواں شہروں اور ریلوے نیٹ ورک پر لاجسٹکس کا نظام دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے باعث صنعتی خام مال اور اشیائے خوردونوش کی ترسیل میں رکاوٹ کا اندیشہ ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، ملکی ریٹیل اور ہول سیل سیکٹر پہلے ہی توانائی کی بلند لاگت اور طلب میں کمی کے باعث شدید مندی کا شکار ہے۔ تاجر برادری اور مینوفیکچررز کا مؤقف ہے کہ اگر صنعتی لاگت کم نہ کی گئی تو صنعتی پیداوار بند ہونے سے بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب، اس نوعیت کی احتجاجی تحریکیں معاشی غیر یقینی کی فضا کو جنم دیتی ہیں، جس سے ملکی سرمایہ کاری کا عمل اور اسٹاک مارکیٹ بھی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا واضح مؤقف ہے کہ مراعات یافتہ طبقے اور آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کا بوجھ عام شہری اور تجارتی طبقہ مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی کی جائے، کیپیسٹی چارجز کے معاہدوں کا آڈٹ کرایا جائے اور تاجروں پر عائد اضافی ٹیکسز فوری واپس لیے جائیں۔ انہوں نے عوام اور تاجر تنظیموں کو اس مارچ میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ دوسری جانب، حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ معاشی بحالی اور مالیاتی خسارے پر قابو پانے کے لیے سخت مالیاتی اصلاحات ناگزیر ہیں، تاہم حکومت تعمیری مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے پر آمادہ ہے۔ دارالحکومت کی انتظامیہ نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند روز کے دوران یہ احتجاجی تحریک ملکی سیاسی اور معاشی منظرنامے میں ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے مذاکرات کے ذریعے بجلی کے نرخوں یا ٹیکس سلیبس میں ریلیف کے حوالے سے کوئی روڈ میپ پیش نہ کیا گیا تو یہ احتجاج دیگر شہروں تک پھیل سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، مختلف مرکزی تاجر تنظیموں کی جانب سے اس تحریک کی ممکنہ حمایت حکومت پر مزید مالیاتی دباؤ بڑھا دے گی۔ معاشی ماہرین کے نزدیک پائیدار حل کے لیے حکومت کو اخراجات میں کمی لانے اور توانائی کے شعبے میں سٹرکچرل اصلاحات کے ٹھوس اقدامات کا اعلان کرنا ہوگا تاکہ مارکیٹ میں اعتماد بحال ہو سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp