حکومت مہنگائی کے خاتمے کے لیے پیٹرولیم لیوی فی الفور ختم کرے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ کرے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر موجودہ ملکی معاشی صورتحال کے تناظر میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو حقیقی ریلیف کی فراہمی کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد پیٹرولیم لیوی کو فی الفور ختم کیا جائے۔ ملک میں جاری مہنگائی کی لہر، یوٹیلیٹی بلز کی ہوشربا قیمتوں اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی لاگت نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ سیاسی و معاشی حلقوں میں اس مطالبے کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ عام آدمی پہلے ہی اشیائے خوردون Lösungen کی خریداری میں شدید مشکلات کا شکار ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور ٹیکسز کی بہتات کا براہ راست اثر ملکی تجارت، صنعت اور ٹرانسপোর্ট کے شعبے پر پڑتا ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ترسیلی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ہر شے کی ریٹیل قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ تاجر برادری اور عام خریدار دونوں ہی اس معاشی گھٹن کا شکار ہیں۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ اگر پیٹرولیم لیوی میں کمی یا اس کا خاتمہ کیا جائے تو پیداواری لاگت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، جس سے نہ صرف صنعتی پہیہ تیزی سے گھومے گا بلکہ مہنگائی کے گراف کو بھی نیچے لایا جا سکے گا۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیاں محض آئی ایم ایف کے اہداف پورے کرنے پر مرکوز ہیں جبکہ عوام کی حالت زار پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکمران طبقے کو شاہانہ اخراجات کم کرکے عوام کو ریلیف دینا ہوگا۔ دوسری جانب، حکومتی ذرائع کا مؤقف ہے کہ معاشی استحکام اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ طے پانے والے اہداف کی تکمیل کے لیے محصولات کا حصول ناگزیر ہے، تاہم عوامی حلقوں اور تجارتی تنظیموں کی جانب سے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ریلیف کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ اگر حکومت نے عوامی مطالبات پر توجہ نہ دی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی یا لیوی کے خاتمے کے لیے اقدامات نہ کیے تو سیاسی جماعتوں اور تاجر برادری کی طرف سے ملک گیر احتجاجی تحریک کا خدشہ موجود ہے۔ آنے والے دنوں میں معاشی چیلنجز مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، بشرطیکہ حکومتی سطح پر عوام دوست پالیسیوں کا اجراء نہ کیا جائے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp