Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

جاگیردارانہ نظام قومی معیشت اور ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے: حافظ نعیم الرحمٰن

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں میں موجود جاگیردار طبقہ ملکی ترقی اور معاشی مساوات کی راہ میں مستقل رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

جاگیردارانہ نظام قومی معیشت اور ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے: حافظ نعیم الرحمٰن

اہم ترین حقائق و پس منظر جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے ملک کے موجودہ سیاسی و معاشی ڈھانچے پر تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی تمام بڑی اور روایتی سیاسی جماعتوں میں بااثر جاگیردار قابض ہیں۔ ان کے مطابق جب تک قانون سازی اور پالیسی سازی کے کلیدی اداروں پر مخصوص جاگیردار اور مراعات یافتہ اشرافیہ قابض رہے گی، اس وقت تک عام آدمی اور کاروباری طبقے کے مسائل کا پائیدار حل ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ روایتی سیاسی قیادتیں اقتدار کے حصول کے بعد ملکی اصلاحات کے بجائے اپنے طبقاتی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دیتی ہیں، جس کی وجہ سے حقیقی اصلاحات کا راستہ ہمیشہ مسدود رہتا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات معاشی ماہرین اور تجارتی مبصرین کے مطابق، پاکستان میں زرعی شعبے سے وابستہ بااثر اراضی مالکان پر براہ راست اور منصفانہ ٹیکس کا نہ ہونا معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس صورتحال کا سارا بوجھ صنعتکاروں، تاجروں، ریٹیلرز اور تنخواہ دار طبقے پر ناقابل برداشت ودہولڈنگ اور جنرل سیلز ٹیکس کی شکل میں ڈالا جاتا ہے۔ تجارتی برادری کا کہنا ہے کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بڑے جاگیرداروں کی آمدنی کو قومی ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے تاکہ کاروبار پر بلاواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم ہو اور پیداواری سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل حافظ نعیم الرحمٰن نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ جماعت اسلامی عوامی حقوق اور منصفانہ ٹیکس نظام کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ غریب تنخواہ دار اور چھوٹے تاجروں کا خون نچوڑا جا رہا ہے جبکہ ہزاروں ایکڑ کے مالک مراعات یافتہ طبقے کو مسلسل استثنیٰ حاصل ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ صوبائی سطح پر زرعی انکم ٹیکس کے قوانین میں اصلاحات کی جا رہی ہیں، تاہم سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو انتہائی سست قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بااثر سیاسی نمائندے خود ایسی کسی بھی قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

مستقبل کا منظرنامہ مستقبل کے تناظر میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ملکی معاشی تقاضوں کے پیش نظر زرعی ٹیکس اصلاحات کا نفاذ ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر حکومت بڑے اراضی مالکان اور بااثر طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتی تو تجارتی برادری اور عوام کی جانب سے احتجاجی تحریکوں میں شدت آ سکتی ہے۔ منصفانہ مالیاتی پالیسی اور جاگیردارانہ اجارہ داری کے خاتمے کے بغیر ملک کی پائیدار ترقی، برآمدات میں اضافہ اور معاشی خود انحصاری کا حصول محض ایک خواب ہی رہے گا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
جاگیردارانہ نظام قومی معیشت اور ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے: حافظ نعیم الرحمٰن