حکومت نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی کوئی بات نہیں کی: طارق فضل چوہدری کا دعویٰ
حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس نے کسی بھی جماعت کو لانگ مارچ ملتوی کرنے کا نہیں کہا۔ سیاسی کشیدگی کے معاشی اثرات پر تاجر برادری نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں ایک بار پھر عروج پر پہنچ چکی ہیں جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ کے ساتھ ساتھ احتجاجی مظاہروں کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ اس دوران حکومتی رہنما اور مسلم لیگ ن کے اہم رہنما طارق فضل چوہدری نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے کسی بھی سیاسی جماعت کو لانگ مارچ ملتوی کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی باضابطہ مطالبہ کیا گیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس بیان کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں ملک کے اندر دھرनों اور لانگ مارچ کی کالز کے باعث انتظامی اور سیاسی درجہ حرارت کافی بڑھ چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نوعیت کے بیانات دراصل سیاسی میدان میں حکمت عملی کا حصہ ہیں تاکہ حکومت پر دباؤ کم کیا جا سکے اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
تجارتی و معاشی اثرات ملک میں جاری اس سیاسی رسہ کشی اور لانگ مارچ کی تیاریوں کے براہ راست اثرات پاکستان کی کمزور معیشت اور کاروباری منڈیوں پر پڑ رہے ہیں۔ کراچی، لاہور اور راولپنڈی سمیت ملک بھر کی اہم تجارتی منڈیوں میں سرمایہ کاروں اور تاجروں کے اندر بے یقینی کی فضا پائی جاتی ہے۔ سیاسی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پر بھی دباؤ بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ ریٹیلرز اور ہول سیلرز کے مطابق، اس طرح کے دھرنے اور احتجاج ملک میں سپلائی چین کو متاثر کرتے ہیں جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ عام آدمی پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے اور سیاسی بحران عوام کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل طارق فضل چوہدری نے اپنے مؤقف میں دہرایا کہ جمہوری نظام میں احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے لیکن اس سے عوامی املاک اور معیشت کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ دوسری طرف، اپوزیشن جماعتوں اور احتجاجی تحریک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت ان کے جمہوری حقوق سلب کرنے کے لیے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے اور لانگ مارچ کو ناکام بنانے کے لیے انتظامی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ تاجر برادری اور چیمبر آف کامرس کے نمائندوں نے دونوں فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کو مزید معاشی نقصان سے بچانے کے لیے مذاکرات کی میز پر آئیں اور ذاتی یا سیاسی مفادات کی بجائے ملکی مفاد کو مقدم رکھیں۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں سیاسی محاذ آرائی میں شدت آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ لانگ مارچ کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ساتھ دونوں اطراف سے تیاریاں عروج پر ہیں۔ اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار رہا تو ملک میں ایک بار پھر انتظامی بحران جنم لے سکتا ہے جس کے معیشت پر دور رس اور منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی بحالی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا، اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئینی حدود میں رہتے ہوئے معاملات کا حل تلاش کرنا ہوگا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp