ربیع سیزن میں پانی کی بائیس فیصد کمی کا تخمینہ، ارسا نے دستیاب آبی وسائل کی منظوری دیدی
ارسا نے ربیع سیزن میں پانی کی بائیس فیصد کمی کے تخمینوں کی منظوری دے دی ہے جس سے زرعی معیشت اور فصلوں پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر
پاکستان کے آبی ریگولیٹر ادارے ارسا (انڈس ریور سسٹم اتھارٹی) نے آئندہ ربیع سیزن کے لیے پانی کی دستیابی کے تخمینوں کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ ارسا کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق آنے والے سیزن میں ملک بھر کے نہری نظام میں پانی کی مجموعی طور پر بائیس فیصد کمی متوقع ہے۔ یہ صورتحال بالخصوص زرعی شعبے کے لیے انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ ربیع کی اہم ترین فصل یعنی گندم کی بوائی کا عمل اسی سیزن میں ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال مون سون بارشوں کے غیر مساوی پیٹرن اور گلیشیئرز کے پگھلاؤ میں کمی کی وجہ سے آبی ذخائر میں پانی کا مجموعی حجم توقع سے کم ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے براہ راست اثرات ملکی غذایی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔
تجارتی و معاشی اثرات
زراعت پاکستان کی معیشت کا بنیادی ستون ہے اور ملک کی جی ڈی پی میں اس کا بڑا حصہ زرعی پیداوار سے آتا ہے۔ پانی کی بائیس فیصد قلت کا مطلب یہ ہے کہ کسانوں کو اپنی فصلوں بالخصوص گندم، دالوں اور تیل دار اجناس کی سیرابی کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ زرعی ماہرین کا انتباہ ہے کہ آبپاشی کے لیے پانی نہ ملنے کی صورت میں فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے ملک میں گندم کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار بڑھانا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال سے زرعی اجناس کی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کا قوی امکان ہے، جس کے اثرات براہ راست عام صارفین اور ریٹیلرز تک پہنچیں گے اور مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل
ارسا کے حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب پانی کے تمام دستیاب ذخائر کو صوبوں کے درمیان طے شدہ واٹر اپورشنمنٹ اکارڈ کے تحت منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا جائے گا تاکہ تمام اکائیوں کو ان کا جائز حصہ مل سکے۔ دوسری طرف، کسان اتحاد اور زرعی انجمنوں نے پانی کی اس قلت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کسان رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرے اور کسانوں کو بیج، کھاد اور متبادل آبپاشی کے ذرائع پر سبسڈی فراہم کرے تاکہ زرعی شعبے کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے ورنہ دیہی معیشت شدید بحران کا شکار ہو جائے گی۔
مستقبل کا منظرنامہ
مستقبل کے تناظر میں اگر یہ بحران شدت اختیار کرتا ہے تو نہ صرف زرعی ترقی کی شرح متاثر ہوگی بلکہ کسانوں کی مالی حالت بھی انتہائی ابتر ہو جائے گی۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ آبی وسائل کے مؤثر انتظام، جدید ڈرپ اور سپرنکلر آبپاشی کے نظام کے فروغ اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ کسانوں کو پانی کی قلت کے متبادل طریقوں سے آگاہ کریں تاکہ ملکی معیشت کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.