موجودہ حکمرانی کے نظام میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے، علی خورشیدی کا معاشی اصلاحات پر زور
موجودہ گورننس ماڈل کو ترک کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے معروف رہنما علی خورشیدی نے کہا ہے کہ ملکی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے انتظامی ڈھانچے کی مکمل اصلاح ناگزیر ہو چکی ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر ملکی معاشی منظر نامے اور انتظامی امور پر گہرے اثرات مرتب کرنے والے حالیہ بیانات میں سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے موجودہ گورننس ماڈل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں، علی خورشیدی کا یہ مؤقف انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ روایتی حکمرانی کا نظام عوامی امنگوں اور ملکی معیشت کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پاکستان میں طویل عرصے سے درپیش انتظامی اور معاشی چیلنجز نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ جب تک نچلی سطح پر گورننس کے نظام کو شفاف اور فعال نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک پائیدار ترقی کا حصول ناممکن ہے۔ پس منظر میں دیکھا جائے تو بیوروکریٹک رکاوٹیں اور پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا وہ بنیادی عوامل ہیں جو سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا انحصار ایک مستحکم اور شفاف گورننس ماڈل پر ہوتا ہے۔ موجودہ نظام کی مبینہ خامیوں کی وجہ سے تاجر برادری، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) اور عام صارفین کو یکساں طور پر مشکلات کا سامنا ہے۔ منڈی میں قیمتوں کا عدم استحکام، ٹیکسوں کے پیچیدہ طریقہ کار اور ریگولیٹری اداروں کی جانب سے عدم تعاون نے کاروباری لاگت میں اضافہ کر دیا ہے۔ جب تک گورننس کے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا جاتا، مہنگائی پر قابو پانا اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو راغب کرنا ایک کٹھن مرحلہ رہے گا۔ ماہرینِ معیشت کا ماننا ہے کہ انتظامی اصلاحات کے بغیر تجارتی اہداف کا حصول محض ایک خواب ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل علی خورشیدی کے اس بیان پر کاروباری حلقوں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے ملا جلا لیکن اصلاحات کے حق میں شدید رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ تاجر تنظیموں نے اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ ریگولیٹری ماحول کاروبار دوست نہیں ہے اور اس میں فوری تبدیلی کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب، حکومتیحلقوں کا مؤقف ہے کہ معاشی بحالی کے لیے اصلاحاتی عمل پہلے ہی سے جاری ہے اور اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، ناقدین کا اصرار ہے کہ زبانی جمع خرچ کے بجائے زمینی حقائق کے مطابق پالیسیاں مرتب کرنے اور ان پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ضرورت ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے دنوں میں اگر گورننس ماڈل کی تبدیلی اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہ اٹھائے گئے تو معاشی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ مستقبل کے منظرنامے میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول کاروباری برادری، پالیسی ساز اور انتظامی ادارے، ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ اگر وقت رہتے پرانے اور ناکارہ سسٹمز کو ختم کر کے شفافیت اور میرٹ پر مبنی نظام نافذ کر دیا جائے تو پاکستان طویل مدتی معاشی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp